خواتین کرکٹ کے تذکرے کیوں نہیں

پاکستانی خواتین کرکٹرز
،تصویر کا کیپشنپچھلے ورلڈ کپ میں ایشیائی خواتین کرکٹرز نے بھی اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا تھا
    • مصنف, خدیجہ عارف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

پانچ جون سے انگلینڈ میں شروع ہوئے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا نشہ چاروں طرف چھایا ہوا ہے۔ انگلینڈ میں ہورہے اس ورلڈ کپ سے جڑی خبروں سے اخبارات، ویب سائٹس اور ٹی وی خبریں لبریز ہیں۔

لیکن اسی دوران انگلینڈ میں11 جون سے مردوں کی ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ساتھ خواتین کا پہلا ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلا جارہا ہے لیکن ہندوستان میں اس ورلڈ کپ کا مشکل سے کوئی ذکر ہے۔

خواتین ورلڈ کپ کے بیشتر کھیلوں کو نشر بھی نہیں کیا جائیگا۔ کرکٹ ہی نہیں خواتین ہاکی ٹورنامنٹس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ کھیل تجزیہ کار پردیپ ميگزین کہتے ہیں کہ خواتین کھیلوں کے تئیں ہمیشہ ایک بائیس رہا ہے لیکن یہ ٹینس کے لیے نہیں کرکٹ اور ہاکی کے لیے زیادہ ہے۔ '' انڈیا میں جینڈر بائیس ہے اور ہمارے یہاں کھیل کو تبھی توجہ ملتی ہے جب اسے گلمیر سے جوڑا جائے۔''

تو کیا بھارت میں خواتین کھیلوں کے تئیں دوہرا معیار ہے۔ خواتین کرکٹر اور ہاکی میں شاندار کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے بھی ان کی صلاحیت کی حوصلہ افضائی کیوں نہیں کی جاتی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان انجو جین کا کہنا ہے کہ ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے انہیں افسوس ہوتا ہے۔ '' برا یہ لگتا ہے کہ میڈیا ہمارے کھیل پر کوئی توجہ نہیں دیتی ہے جبکہ میڈیا کو خواتین کے کھیلوں کو پروموٹ کرنا چاہیے''۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کرکٹ کی حالت جتنی بھی بری ہے پہلے سے بہتر ہے کیونکہ جب سے خواتین کرکٹ بی سی سی آئی کے انڈر آئی ہے حالات بہتر ہوئے ہیں۔

بھارت میں خواتین کھیلوں کی بدتر حالات کے لیے سرکار اور سپورٹس اتھارٹی کے رویے کو ہمیشہ ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا ہے اور اکثر سپورٹس اتھارٹی یہ کہہ کر اپنا دامن بچاتی نظر آتی ہے کہ ان کے پاس خواتین کھیلوں کو لیے اسپانسرز یا پیسہ لگانے والے نہیں ہیں۔

پردیپ میگزین کہتے ہیں کہ اسپانسرز کو صرف پیسے کمانے ہوتے ہیں انہیں کھیل کے فروغ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور انہیں پتہ ہے کہ مشہور مرد کھلاڑیوں پر پیسہ لگانے کا مطلب اور زیادہ پیسہ ہے۔

ہندوستان میں ہاکی اور کرکٹ میں خواتین کے کھیلوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم گزشتہ کئی برسوں سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے ماہرین کا ماننا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ جب حکومت اور اسپورٹس اتھارٹی کو ان کے کھیل کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔