جیت سے دنیا کو بھرپور پیغام

سابق کھلاڑیوں نے اس فتح کو بہت ہی اہم قرار دیا ہے کیونکہ  پاکستانی کرکٹ کے لیے یہ ایک  انتہائی مشکل وقت ہے
،تصویر کا کیپشنسابق کھلاڑیوں نے اس فتح کو بہت ہی اہم قرار دیا ہے کیونکہ پاکستانی کرکٹ کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل وقت ہے
    • مصنف, عبد الرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے خیال میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیت کر دنیا کو ایک بھرپور پیغام دیا ہے کہ پاکستان کو کسی طور بھی تنہا نہیں رکھا جاسکتا اور وہ کرکٹ کی دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

سابق کپتان رمیز راجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جیت ایک مثبت اور بھرپور پیغام کی حیثیت رکھتی ہے کہ پاکستان میں کرکٹ ختم نہیں ہوئی ہے۔ جن مشکل حالات سے اس وقت پاکستانی کرکٹ گزر رہی ہے اس میں اس جیت کی اشد ضرورت تھی بلکہ اس جیت نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ وہ اس جیت کو1992 کےورلڈ کپ کی جیت سے زیادہ بڑی اور اہم کامیابی سمجھتے ہیں کیونکہ اس ٹیم کو کوئی بھی اہمیت نہیں دے رہا تھا اور سب سے اہم بات یہ کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور پاکستانی کرکٹ کے بارے میں جو منفی رائے دنیا میں قائم کی گئی ہے اس میں یہ جیت منفی سوچ کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

سابق کپتان عامر سہیل کا کہنا ہے کہ اس جیت کو محض ایک کرکٹ جیت کے طور پر نہیں دیکھناچاہیے بلکہ اس کے گہرے اثرات ملکی تاریخ پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ پوری قوم کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے سے شائقین کی دلچسپی کم ہوتی جا رہی تھی اس جیت کے بعد اس میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا۔

سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ 1992 ورلڈ کپ کے بعد قوم کو سترہ سال بعد ایک زبردست خوشی ملی ہے اور اس سے بڑا تحفہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

انضمام الحق کے خیال میں ٹیم نے ابتدائی میچوں میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے بعد کلک کیا اور مشکل حالات میں اپنے حواس پر قابو رکھتے ہوئے میچز جیتے یہ چیز ٹیم اسپرٹ ظاہر کرتی ہے۔

’ہر شخص پریشانی اور مایوسی میں گھرا نظرآتا ہے اس صورتحال میں یہ جیت اس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی ہے‘
،تصویر کا کیپشن’ہر شخص پریشانی اور مایوسی میں گھرا نظرآتا ہے اس صورتحال میں یہ جیت اس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی ہے‘

انہوں نے کہا کہ بڑے ٹورنامنٹس میں بولرز اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں اس ایونٹ میں بھی عمرگل محمد عامر شاہد آفریدی اور سعید اجمل نے ذمہ دارانہ بولنگ کی۔ سعید اجمل نے کسی بھی بیٹسمین کو آزادانہ سٹروکس نہیں کھیلنے دیے۔

ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی ہیٹ ٹرک کا منفرد اعزاز رکھنے والے جلال الدین کے خیال میں اس وقت ہر شخص پریشانی اور مایوسی میں گھرا نظرآتا ہے اس صورتحال میں یہ جیت اس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی جیت اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ابتدا میں اس کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی لیکن بعد میں اس نے جس طرح فائٹ بیک کی اور عمدہ کارکردگی سے میچز جیتے وہ خوش آئند ہے۔