20/20 ورلڈ کپ کا فائنل آج

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ عالمی کپ کا فائنل اتوار کی شام کو پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں کے مابین کھیلا جا رہا ہے۔اس میچ کو ٹورنامنٹ کے چار بہترین بالروں کا فائنل بھی کہا جا رہا ہے۔
دونوں ٹیموں کے مابین میچ لندن کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ لارڈز میں کھیلا جائے گا۔ سیمی فائنل میں پاکستان نے جنوبی افریقہ اور سری لنکا نے ویسٹ انڈیز کو ہرا کر فائنل میں پہنچی ہے۔
فائنل میں ٹورنامنٹ کے چار بہترین باؤلروں کا تعلق بھی دونوں ٹیموں سے ہے ۔ان میں پاکستان کے فاسٹ باولر عمر گل اور آف سپنر سعید اجمل اور سری لنکا کے فاسٹ بالر لیسیتھ ملنگا اور اجنتھا مینڈس شامل ہیں۔
ان چاروں بالروں نے بارہ بارہ وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں تاہم سری لنکا کے اجنتھا مینڈس اوسط کے لحاظ سے ٹونامنٹ کے بہترین بالر ہیں۔
سری لنکا کے لاسیتھ ملنگا اور اجنتھا مینڈس جبکہ پاکستان کے عمر گل نے اس ٹورنامنٹ کے آخری دو میچوں میں بلاشبہ اپنے ٹونٹی ٹونٹی کیریئر کی بہترین بالنگ کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ دوسرا موقع ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈ کپ کا فائنل جنوبی ایشیاء کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جا رہا ہے اس سے پہلے دو ہزار سات کے ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتا تھا۔
آج کے میچ میں سری لنکا کو نفسیاتی برتری حاصل ہے کیونکہ ٹورنامنٹ کے سپرایٹ کے مرحلے میں سری لنکا نے پاکستان کو انیس رنز سے ہرا دیا تھا۔اس میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو ایک سو پچاس رنز کا ہدف دیا تھا جس کو حاصل کرنے میں پاکستان کی ٹیم ناکام رہی تھی۔
اگر ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ابتدائی راؤنڈ کے برعکس ٹیم اب بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
پاکستانی بالروں خصوصاً سپنروں نے اب تک کھیلے جانے والے میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آف سپنر سعید اجمل اور لیگ سپنر شاہد آفریدی اب تک ٹورنامنٹ میں بالترتیب بارہ اور دس وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
پاکستان کے لیے آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی کا دوبارہ فارم میں آنا نیک شگون ہے اور انہوں نے جنوبی افریقہ کے ساتھ کھیلے گئے سیمی فائنل میں نہ صرف پچاس رن کی شاندار اننگ کھیلی بلکہ اپنی بالنگ سے بھی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے بہترین بلے باز ہرشل گبز اور ڈی ویلیئرز کو آؤٹ کر کے میچ کا پانسہ پاکستان کے حق میں پلٹ دیا۔
جہاں تک فاسٹ بالنگ کے شعبے کا تعلق ہے تو پاکستانی فاسٹ بالر عمر گل نے نہ صرف اسی ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔انہوں نے جنوبی افریقہ کے ساتھ کھیلے گئے سیمی فائنل میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کی مگر بہترین بالنگ کا مظاہرہ کیا۔

دوسری جانب سری لنکا کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں اب تک نا قابل شکست رہی ہے اور اس نے مسلسل چھ میچوں میں فتح حاصل کی ہے ۔ سری لنکا کی ٹیم کے بلے باز دلشان اس وقت بہترین فارم میں ہیں انہوں نےسیمی فائنل میں ستاون گیندوں پر چھیانوے رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر سری لنکا کی جیت میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا تھا بلکہ وہ اس وقت ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ سکور کرنے والے بلے باز ہیں انہوں نے ٹونامنٹ میں تین مرتبہ ستر سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو دونوں ٹیموں کے مابین کانٹے دار فائنل دیکھنے کو ملے گا لیکن مبصرین کے مطابق ابھی تک اس ٹورنامنٹ میں جیت کے زیادہ امکانات اس ٹیم کے ہوتے ہیں جو ٹاس جیتے یا پہلے بیٹنگ کرے۔
پاکستان کے کپتان یونس خان نے کہا کہ ہمارا ملک ہر طرح کی مشکلات کا شکار ہے اور ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں جیت کا مصیبتوں میں گھرے ہم وطنوں پر بہت خوشگوار اثر ہوگا۔
اگرچہ سری لنکا کی ٹیم کو پاکستان پر قدرے برتری حاصل ہے لیکن مبصرین کے مطابق جس طرح پاکستان کی ٹیم انیس سو بانوے کے ورلڈ کپ کی طری ابتدائی راؤنڈ میں بری کارکردگی دکھانے کے باوجود ورلڈ کپ کپ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی، اس ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی ٹیم ایک برے آغاز کا بہترین اختتام کر سکتی ہے۔


















