سری لنکا کا دورہ آسان نہیں: کوچ

- مصنف, مناء رانا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان کی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ اور ایک روزہ میچ ٹونٹی ٹونٹی میچوں سے مختلف ہوتے ہیں اس لیے فی الوقت یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ سری لنکا کے خلاف آئندہ سیریز آسان ہو گی۔
انتخاب عالم نے یہ بات سری لنکا کے لیے ٹیم کی روانگی سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔ ٹیم سنیچر کی صبح سری لنکا کے ساتھ تین ٹیسٹ میچ ، پانچ ون ڈے اور ایک ٹونٹی ٹونٹی میچ کھیلنے کے لیے لاہور سے براستہ دبئی کولمبو کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔
پاکستان کی ٹیم کے کپتان یونس خان، عمرگل، فواد عالم، خرم منظور اورفیصل اقبال کراچی سے روانہ ہوئے جبکہ سپن بالر دانش کنیریا انگلینڈ سے سری لنکا جائیں گے۔
انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹونٹی ٹونٹی میں فتح سے کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے لیکن سری لنکا کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے اور انہیں ’ہوم گراؤنڈ‘ اور ’ہوم کراؤڈ‘ کا فائدہ بھی ہو گا۔
انتخاب عالم نے کہا کہ سری لنکا کا موسم بھی کافی شدید ہے۔ وہاں گرمی اور حبس بہت زیادہ ہوتا ہے اس لیے کھلاڑیوں کو موسمی حالات سے مطابقت پیدا کرنے میں بھی وقت لگے گا اور وہاں جا کر وہاں کی وکٹوں اور موسمی حالات کو دیکھ کر ہی کوئی لائحہء عمل بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ میچوں کے لیے صبر و تحمل اور فٹ نس کی بہت اہمیت ہے۔
انتخاب عالم نے کہا کہ وہ ابھی سے جیت کی بابت کوئی پیش گوئی تو نہیں کر سکتے البتہ ٹیم بہتر کاکردگی کی کوشش کرے گی۔

انتخاب عالم نے کہا کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن کچھ کمزور تھی لیکن محمد یوسف اور آل راؤنڈر عبدالرزاق کے آنے سے ٹیم کی بیٹنگ بھی مضبوط ہوئی ہے۔ انتخاب عالم نے کہا کہ ہمارے پاس سپن اور فاسٹ بالنگ کا بہترین کمبی نیشن ہے جو دنیا کی کسی بھی بیٹنگ لائن کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔
ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں تین سری لنکن کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے فتح کی بنیاد ڈالنے والے پاکستانی بالر عبدالرزاق نے روانگی سے پہلے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تینوں طرح کی کرکٹ میں اچھی کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہاکی ٹیم بھی روانہ
سنیچر کو ہی پاکستان کی اٹھارہ رکنی ہاکی ٹیم بھی انگلینڈ روانہ ہوئی جہاں وہ انگلینڈ کی ہاکی ٹیم کے خلاف تین ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔
اس اٹھارہ رکنی ٹیم کا انتخاب دو روز قبل ایک دن کے ٹرائل کے بعد کیا گیا تھا۔ اس ٹیم میں سینیر کھلاڑیوں محمد ثقلین، ریحان بٹ، شکیل عباسی اور سہیل عباس کو آرام دینے کے لیے شامل نہیں کیا گیا۔
روانگی سے پہلے پاکستان کی ٹیم کے کپتان ذیشان اشرف کا کہنا ہے کہ اس ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے تاکہ انہیں تجربہ دیا جائے۔
انہوں نے کہا یہ نوجوان کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ٹیم میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ ذیشان اشرف کے مطابق انگلینڈ کے ساتھ اس سیریز کا مقصد ہار جیت سے زیادہ تربیت اور تجربہ حاصل کرنا ہے جو کہ عالمی کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں کام آئے گا۔


















