ٹیسٹ کرکٹر خان محمد انتقال کر گئے

- مصنف, عبد الرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے پہلی گیند پھینکنے اور پہلی وکٹ حاصل کرنے کے منفرد اعزاز کے مالک فاسٹ بولر خان محمد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
وہ سرطان میں مبتلا رہنے کے بعد لندن میں اکیاسی سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔
خان محمد کے انتقال کے بعد اب پاکستان کی اولین ٹیسٹ ٹیم کے چار کھلاڑی حنیف محمد، وقارحسن اسرار علی اور امتیاز احمد حیات ہیں۔
خان محمد کے بارے میں امتیاز احمد کہتے ہیں کہ وہ دوستوں کے دوست تھے ان کے ساتھ گپ شپ میں مزا آتا تھا۔جہاں تک ان کی بولنگ کا تعلق ہے تو انہوں نے اس دور میں ریورس سوئنگ سے بیٹسمینوں کو پریشانی میں مبتلا کیا۔ فضل محمود کی گیند صرف باہر نکلتی تھی لیکن خان محمد گیند کو اندر لاتے تھے۔
امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ اگر خان محمد کے ساتھ فٹنس مسائل نہیں رہتے تو وہ زیادہ عرصے کھیل سکتے تھے۔
خان محمد نے تقسیم ہند سے قبل رانجی ٹرافی میں شمالی ہندوستان کی ٹیم کی نمائندگی کی لیکن پاکستان بننے کے بعد وہ نئی پہچان کے ساتھ سامنے آئے۔
49-1948ء میں سیلون کے دورے میں کھیلے گئے دو غیرسرکاری ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے چودہ وکٹیں حاصل کیں اور جب 52-1951ء میں ایم سی سی پاکستان آئی تو لاہور کے غیرسرکاری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
کراچی جمخانہ میں کھیلے گئے دوسرے غیرسرکاری ٹیسٹ میں پاکستان نے ایم سی سی کو شکست دے کر ٹیسٹ رکنیت حاصل کی اس میچ کی دوسری اننگز میں خان محمد کی پانچ وکٹیں شامل تھیں۔
یہ وہ دور تھا جب خان محمد کی فضل محمود کے ساتھ جوڑی حریف بیٹسمینوں کو خطرے کا پیغام دے چکی تھی۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اپنا اولین ٹیسٹ 53-1952 میں بھارت کے خلاف دہلی میں کھیلا۔ خان محمد کو پاکستان کی طرف سے پہلا اوور کرانے کا اعزاز حاصل ہوا اور یہ منفرد اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا جب انہوں نے پنکج رائے کو آؤٹ کرکے پاکستان کی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی لیکن فٹنس مسائل کے سبب وہ سیریز کے بقیہ میچز سے باہر ہوگئے۔
1954کے لارڈز ٹیسٹ میں فضل محمود اور خان محمد نے کسی تیسرے بولر کی مدد کے بغیر انگلینڈ کو صرف ایک سو سترہ رنز پر آؤٹ کردیا۔ خان محمد نے پانچ وکٹیں حاصل کیں جن میں سر لین ہٹن کو صفر پر بولڈ کرنا بھی شامل تھا۔
1954-55ءمیں بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں وہ 22 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔
56-1957ءمیں آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں ایک بار پھر فضل محمود اور خان محمد نے ہی پوری ٹیم کو آؤٹ کردیا جس میں فضل محمود کی چھ اور خان محمد کی چار وکٹیں شامل تھیں۔
خان محمد نے13 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے54 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین بولنگ21 رنز کے عوض6 وکٹیں 56-1955ءمیں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈھاکہ میں رہی۔
58-1957ءمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین ٹیسٹ خان محمد کا آخری ٹیسٹ ثابت ہوا۔اس سے قبل کنگسٹن ٹیسٹ میں انہیں سرگیری سوبرز کی ٹرپل سنچری کا سامنا کرنا پڑا اس اننگز میں خان محمد نے259 رنز دیے جو ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی بولر کی چوتھی مہنگی ترین کارکردگی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد خان محمد نے کوچنگ کو اپنالیاتھا تاہم ان کے ناقدین ان پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ انہوں نے سری لنکن فاسٹ بولر رمیش رتنائیکے اور پاکستانی بولر عتیق الرحمن کے بولنگ ایکشن میں غیرضروری ردوبدل کراکر انہیں غیرموثر بنادیا۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر وقار حسن بھی پاکستان کی اولین ٹیسٹ میں شامل تھے وہ خان محمد کو انفرادیت پسند کرکٹر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ دوسروں سے مختلف دکھائی دینا پسند کرتے تھے۔ کبھی ڈنر پر جانا ہو اور کھلاڑیوں سے کہا جاتا کہ جیکٹ پہن کر آئیں تو خان محمد اچکن پہن کر آجاتے تھے۔
وقار حسن نے کہا کہ خان محمد نے پاکستانی کرکٹ کے ابتدائی دور میں فضل محمود کے ساتھ بولنگ کے شعبے کو جس خوبی سے سنبھالا وہ مثالی ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر حنیف محمد اپنے ساتھی کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ آؤٹ سوئنگ کرتے کرتے ان سوئنگ کرکے حریف بیٹسمین کوحیران کردیتے تھے۔ وہ ٹیم مین تھے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب وہ ریٹائر ہوئے تو کوچنگ کو باقاعدہ اپنایا اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے تجربے سے فائدہ بھی اٹھایا۔


















