اوپنر فواد عالم کا اعزاز

فواد عالم
،تصویر کا کیپشنفواد عالم پہلے پاکستانی بیٹسمین ہیں جنہوں نے ملک سے باہر اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری سکور کی ہے
    • مصنف, عبد الرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کسی بھی کرکٹر کی طرح فواد عالم کے لیے بھی یہ اطلاع کسی خوشخبری سے کم نہ تھی کہ انہیں ٹیسٹ کیپ دی جارہی ہے لیکن یہ بات بھی کسی چیلنج سے کم نہ تھی کہ انہیں اپنا اولین ٹیسٹ اوپنر کی حیثیت سے کھلانے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا جبکہ اپنے پورے فرسٹ کلاس کیریئر میں انہوں نے کبھی اننگز کی ابتدا نہیں کی تھی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم جب کولمبو پہنچی تھی توگال ٹیسٹ میں غیرذمہ دارانہ اسٹروک کھیل کر اپنی وکٹ ہیرتھ کو پیش کردینے والے سلمان بٹ کے بارے میں کپتان یونس خان یہ ذہن بناچکے تھے کہ وہ دوسرا ٹیسٹ نہیں کھیلیں گے اور انہوں نے فواد کو بتادیا تھا کہ وہ اننگز کاآغاز کرنے کے لیے تیار رہیں۔

یونس خان نے فواد عالم کو اپنی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ساتویں آٹھویں نمبر سے بیٹنگ کرتے ہوئے ون ڈاؤن پر اپنی پوزیشن کس طرح مستحکم کرنے میں کامیاب ہوئے شاید اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ فواد عالم نے اپنے اولین ٹیسٹ کو شاندار سنچری سے یادگار بنا دیا۔

فواد عالم پہلے پاکستانی بیٹسمین ہیں جنہوں نے ملک سے باہر اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری سکور کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ اس سنگ میل تک پہنچے تو دوسرے اینڈ پر کپتان یونس خان ہی موجود تھے جنہوں نے خود نوسال قبل سری لنکا ہی کے خلاف اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری بنائی تھی۔

فواد عالم نے جب سنچری مکمل کی تو یونس خان نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ان کے لیے ایک چیز رکھی ہے جو وہ ڈریسنگ روم میں انہیں دکھائیں گے۔ وہ ایک گیند تھی جس پر لکھا تھا’ فواد عالم۔ ڈیبیو100‘ اور اس پر یونس خان کے دستخط تھے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کپتان کو فواد عالم پر کس قدر اعتماد تھا۔

فواد عالم جب پہلی اننگز میں سولہ رنز پر آؤٹ ہوئے تو انہوں نے اپنے والد طارق عالم کو فون کیا جو سابق فرسٹ کلاس کرکٹر ہیں اور کئی کرکٹروں کو سپن بولنگ کھیلنے کے گر سکھا چکے ہیں۔ فواد نے اپنے والد سے کم سکور پر آؤٹ ہونے پر افسوس ظاہر کیا تو ان کے والد نے کہا کہ اگلی بار مجھے ایس ایم ایس کرنا میں خود تمہیں کال کروں گا کیونکہ تم نے سنچری بنائی ہوئی ہوگی۔

فواد عالم نے سترہ سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کرتے ہوئے اس میں اپنی صلاحیتوں کا زبردست مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان اکیڈمی کے افریقی دورے میں انہوں نے کینیا کے خلاف چار روزہ میچ میں ٹرپل سنچری اسکور کی۔

وہ جونیئر ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی انڈر 19ٹیم میں بھی شامل تھے۔

فرسٹ کلاس اور محدود اووروں کی ڈومیسٹک کرکٹ میں فواد کی کارکردگی انتہائی غیرمعمولی رہی ہے اس کے باوجود فواد عالم کے لیے پاکستانی ٹیم میں آنا آسان نہیں رہا اور جب وہ ٹیم میں آگئے تو یہ بات بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ کبھی ان کی بیٹنگ نہیں آئی تو کبھی بولنگ کے قابل نہیں سمجھاگیا لیکن فواد عالم اس صورتحال سے کبھی دلبرداشتہ نہیں ہوئے۔

فواد عالم کے لیے وہ لمحہ خاصا کٹھن تھا جب ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ان کے واحد اوور میں پندرہ رن بن گئے تھے لیکن پھر انہی کی براہ راست تھرو نے ایلبی مورکل کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

وہ پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے لیکن صرف نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں ہی انہیں کھلایا گیا جس میں انہوں نے دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔

پاکستانی کرکٹ میں مڈل آرڈر بیٹسمینوں کے کامیاب اوپنر بننے کی کافی مثالیں موجود ہیں۔ فواد عالم اولین ٹیسٹ میں سنچری کے بعد مستقل اوپنر بن گئے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے بعد ٹیسٹ ٹیم کے سلیکشن میں بھی اب انہیں یہ کوئی نہیں کہہ سکے گا’ تم اچھے کرکٹر ضرور ہو لیکن ٹیم میں تمہاری جگہ نہیں بنتی‘۔