’غلطیاں دہرائیں تو کامیابی مشکل ہوگی‘

یونس خا ن
،تصویر کا کیپشنبہت زیادہ تبدیلیوں کے حق میں نہیں ہوں: یونس خان
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، دمبولا
  • وقت اشاعت

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز میں کی گئی غلطیاں دہراتی ہے تو اس کے لیے ون ڈے سیریز میں کامیابی مشکل ہوگی جبکہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کپتان کمار سنگاکارا نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کو سنہ 2011 کے ورلڈ کپ کی تیاری کے ضمن میں پہلا قدم قرار دیا ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ون ڈے انٹرنیشنل جمعرات کو دمبولا میں کھیلا جارہا ہے۔

دمبولا کے رانگیری اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس میں یونس خان نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم اپنے ملک میں انتہائی مشکل ٹیم ہے اس نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں جیتنے کی پوزیشن میں آنے کے باوجود جیتنے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی ون ڈے ٹیم میں بھی چند ایسے کھلاڑی ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا نقشہ بدل سکتے ہیں اور مرلی اور جے سوریا کے آنے سے ان کی ٹیم مضبوط ہوگئی ہے۔

یونس خان نے کہا کہ ٹیسٹ سیریز نہ جیتنے کا انہیں ابھی تک یقین نہیں آرہا ہے لیکن اگر پاکستان کو ون ڈے سیریز جیتنی ہے تو اسے ٹیسٹ سیریز میں کی گئی غلطیوں سے دور رہنا ہوگا۔ پاکستانی کپتان نے کہا کہ جیت کے لیے صرف ایک اچھی کارکردگی ضروری نہیں بلکہ چار پانچ میچوں میں اچھی کارکردگی درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہر کھلاڑی کو میرٹ پر موقع دینے کے حق میں ہیں۔ یونس خان کا کہنا تھا کہ وہ بہت زیادہ تبدیلیوں کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آنے والے دنوں میں چیمپئنز ٹرافی اور آُسٹریلیا نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کی شکل میں سخت مقابلوں کا سامنا ہے لہذا وہ چاہتے ہیں کہ ایک متوازن ٹیم تشکیل دے سکیں جو آنے والے چیلنجز کا سامنا کر سکے۔

اس سے قبل سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کپتان سنگاکارا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ون ڈے میچوں میں ان کی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی ہے اور وہ کوشش کررہے ہیں کہ ایک مضبوط ٹیم تیار کرلی جائے جو ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی دکھا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ’مضبوط اور پراعتماد ٹیم ہی کامیابی حاصل کرتی ہے اور پاکستان کے خلاف یہ سیریز ورلڈ کپ کی تیاری کی جانب پہلا قدم ہے‘۔

سنگاکارا نے کہا کہ پاکستانی ٹیم مختصر دورانیے کی کرکٹ میں زبردست کارکردگی دکھانے کی شہرت رکھتی ہے اور اگرچہ ’سری لنکا نے ٹیسٹ سیریز جیتی ہوئی ہے لیکن ون ڈے سیریز میں سب کچھ از سرِ نو شروع کرنا ہوگا‘۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سیریز میں بیٹنگ کا کردار بہت اہم ہوگا جسے بولنگ سے مکمل مدد ملنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم چھ مستند بیٹسمینوں کے ساتھ میدان میں اترے گی جبکہ اینجیلو میتھیوز آل راؤنڈر کے طور پر موزوں ترین ہیں۔

سری لنکن کپتان کا کہنا تھا کہ مرلی دھرن کے واپس آنے سے سری لنکن بولنگ مضبوط ہوگی جبکہ ملنگا بھی مستقل مزاجی سے بولنگ کررہے ہیں۔ سری لنکن کپتان نے اجنتھا مینڈس پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیاب نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مینڈس برے بولر ہیں۔ وہ سری لنکن ٹیم کے لیے خاص بولر ہیں جو لگاتار سیکھ رہے ہیں اور اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کی کوشش کررہے ہیں‘۔

سنگاکارا نے دمبولا کی وکٹ پر کئے گئے سوال پر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’وکٹ کے بارے میں سب کو پتہ ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اس پر جاکر کھیلیں اور بس کیونکہ اسے سمجھنا مشکل ہے‘۔