وسیم اکرم جیسا بننے کی خواہش

محمد عامر
،تصویر کا کیپشنمحمد عامر نے دورۂ سری لنکا میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولمبو
  • وقت اشاعت

نوجوان فاسٹ بولر محمد عامر خود کو اس لحاظ سے خوش قسمت تصور کرتے ہیں کہ جس بولر کو ٹی وی پر دیکھ کر وہ انہی جیسا بننے کی خواہش ظاہر کرتے تھے آج وہی ان کی صلاحیتوں کے گن گا رہا ہے۔

محمد عامر بھی وسیم اکرم کی طرح بائیں ہاتھ سے بولنگ کرتے ہیں اور انہی کی طرح کم عمری میں اپنی متاثر کن کارکردگی سےکرکٹ پنڈتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

محمد عامر سے میرا پہلا سوال یہی تھا کہ جس وسیم اکرم کوآپ ٹی وی پر دیکھا کرتے تھے آج وہی وسیم اکرم ٹی وی کمنٹری میں آپ کا ذکر کررہے ہیں کیسا لگ رہا ہے یہ سب کچھ؟۔ محمد عامر کہنے لگے’ ظاہرہے اچھا لگ رہا ہے اور میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ میری بولنگ کی تعریف کررہے ہیں‘۔

محمد عامر درحقیقت وسیم اکرم ہی کی دریافت ہیں جنہوں نے کیمپ کے دوران اس نوجوان بولر میں چھپی صلاحیتیں دیکھ لی تھیں اور پی سی بی کے کرتا دھرتاؤں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ کسی نوجوان بولر سے اپنے پیس اٹیک کو مضبوطکرنا چاہتے ہیں تو کسی صورت میں محمد عامر کو نظرانداز نہ کریں۔

محمد عامر کہتے ہیں’ نئی گیند سے میں پہلے ان سوئنگ نہیں کرسکتا تھا لیکن وسیم بھائی نے مجھے نئی گیند سے ان سوئنگ اور عاقب بھائی (عاقب جاوید) نے مجھے نئی گیند سے آؤٹ سوئنگ کرنا سکھایا۔ ابھی میری ابتدا ہے اور مجھے بہت کچھ سیکھنا ہے‘۔

عامر کا کیریئر ابتدا میں بیماری اور فٹنس مسائل کا شکار رہا۔ انڈر19 ورلڈ کپ کے دوران وہ ڈینگی وائرس میں مبتلا ہوگئے لیکن پھر ٹیم میں واپسی ہوئی اور ڈومیسٹک سیزن میں وکٹوں کی نصف سنچری انہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم میں لے آئی۔

اب تک کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں’ ابھی تک تو بولنگ اچھی ہورہی ہے لیکن مجھے سب سے زیادہ توجہ اپنی فٹنس پر رکھنی ہے کیونکہ فاسٹ بولر کے لیے فٹنس مسائل ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ فٹنس برقرار رکھنے پر بھی میں کام کر رہا ہوں‘۔

محمد عامر کے خیال میں صرف ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران تین مختلف انداز کی کرکٹ یعنی ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹیسٹ اور پھر ون ڈے کھیلنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑا ہے’ اگر بولر اپنی بنیادی باتوں پر قائم رہے تو اس کے لیے وکٹ حاصل کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اگر وہ بنیادی باتوں سے ہٹتا ہے تو پھر تگ ودو کرتا ہے‘۔

محمد عامر کا کہنا ہے کہ کپتان یونس خان نے ان پر بھرپوراعتماد کیا جس نے انہیں اپنی کارکردگی بہتر سے بہتر کرنے میں بڑی مدد ملی ہے ’میں ساٹھ فیصد کارکردگی انہی کی وجہ سے دکھا پا رہا ہوں کیونکہ وہ مجھے ہر وقت حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں اور ہر بیٹسمین کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے بتاتے رہتے ہیں کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیے‘۔

محمد عامرکا تعلق گوجر خان سے ہے جب وہ ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی جیت کر اپنے گاؤں پہنچے تو اپنا استقبال دیکھ کر انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہوسکتاہے’ میں اپنے گاؤں کا پہلا کرکٹر ہوں جو پاکستان کے لئے کھیلا ہے۔ جب جیت کر میں گاؤں آیا تو مجھے گھوڑے پر بٹھایا گیا مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں کسی کی بارات میں آیا ہوں سڑکوں پر لوگوں کا رش دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے صدر کی سواری گزر رہی ہے‘۔