مصباح الحق دباؤ سے آزاد

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولمبو
- وقت اشاعت
پاکستانی کرکٹر مصباح الحق سری لنکا کے خلاف پانچویں ون ڈے کو اپنے کریئر کی نئی ابتداء سے تعبیر کرتے ہیں۔
نائب کپتان مصباح الحق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کافی عرصے سے بڑی اننگز نہ کھیلنے کے سبب ان پر زبردست دباؤ تھا اور پانچویں ون ڈے میں73 رنز ناٹ آؤٹ کھیل کر انہیں ایسا لگا کہ جیسے انہوں نے اب اپنے کریئر کا آغاز کیا ہو۔
مصباح الحق کے لئے ڈومیسٹک کرکٹ میں غیرمعمولی کارکردگی کے باوجود پاکستانی ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کا موقع نہ مل سکا شاید اس کی وجہ انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان کی موجودگی تھی۔ اور یہ اس وقت ممکن ہوا جب انضمام نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہا تو ’حق‘ ادا کرنے کے لئے مصباح تیار تھے۔
بھارت کے دورے میں دو سنچریاں بناکر مصباح الحق نے اپنے عزائم ظاہر کردیے تھے لیکن پھر کچھ عرصے سے رنز ان سے روٹھتے چلے گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ سری لنکا کے دورے میں ان کا اعتماد بالکل ہی ختم ہوگیا تھا جو آخری ون ڈے کی اننگز سے بحال ہوا ہے۔
وہ بیٹنگ کی ناکامی کی مختلف وجوہات بتاتے ہیں: ورلڈ ٹونٹی ٹونٹی کھیل کر فوراً ہی ٹیسٹ میچز کھیلنے پڑے جبکہ پہلے ہی ٹیسٹ میں وکٹ بولرز کے لئے سازگار تھی۔ ٹیسٹ سیریز میں دونوں ٹیموں کے بیٹسمین بڑی اننگز کے لئے تگ ودو کرتے رہے جبکہ دمبولا میں بھی پہلے دو ون ڈے کی وکٹیں بولرز کے لئے مددگار تھیں۔ تاہم بحیثیت پروفیشنل کرکٹر وہ ان وجوہات کو اپنی ناکامی کی ڈھال بناکر پیش کرنے کے لئے تیار نہیں۔
مصباح کا کہنا ہے کہ اگر سیریز کے آغاز میں وہ کوئی اچھی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوجاتے تو ان کا اعتماد بڑھ جاتا لیکن ایسا نہ ہونے سے ان پر دباؤ بڑھتا ہی چلاگیا، لیکن انہیں اس بارے میں سوچنا پڑے گا کہ سیریز کے شروع میں رنز نہ کرنے کے بعد وہ پوری سیریز ہی میں اسکور نہ کریں اس مشکل سے نکلنے کی تدبیر کرنی پڑے گی۔
وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ اس دباؤ کا شکار رہے کہ وہ نائب کپتان بھی ہیں اور رنز بھی نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ پریشر تو ہر اس کرکٹر پرہوتا ہے جو رنز نہ کرے۔ جہاں تک نائب کپتانی کا تعلق ہے تو وہ مثبت سوچ کے حامل کرکٹر ہیں اسی لئے ایک میچ میں انہوں نے خود ہی کپتان اور منیجمنٹ سے کہا کہ وہ انہیں بٹھا کر نوجوان کرکٹر کو موقع دیں۔ ’میرے اس فیصلے کا مقصد ٹیم کی بہتری کے لئے تھا‘۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اگر کوئی نوجوان باصلاحیت کرکٹر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسے انٹرنیشنل کرکٹ میں موقع دینے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ اس سے سینئر کرکٹرز پر پریشر رہتا ہے کہ اگر وہ پرفارم نہیں کرینگے تو ان کی جگہ خطرے میں پڑسکتی ہے اسے وہ مثبت انداز میں دیکھتے ہیں کیونکہ مسابقت کی وجہ سے ٹیم کو فائدہ ہی ہوتا ہے۔
مصباح الحق کے نزدیک جب وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھاری اسکور بناکر بھی ٹیم میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے تھے تو وہ دن بھی کٹھن اور صبر آزما تھے اور اب جب ٹیم میں ہوکر بھی ان سے رنز نہیں ہو رہے تھے تو یہ بھی ان کے لئے تکلیف دہ صورتحال رہی۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹونٹی ٹونٹی میں جب ٹیم سیمی فائنل میں پہنچی تو اس کے بعد کسی بھی کھلاڑی کے ذہن میں جیت کے سوا کوئی دوسری بات نہیں تھی کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ جنوبی افریقہ میں جیت کے کتنے قریب آکر اس سے دور ہوگئے تھے لہذا اس بار اس موقع کو گنوانے کے لئے کوئی بھی تیار نہ تھا۔
یونس خان کی طرح مصباح الحق بھی ٹیسٹ کو اصل کرکٹ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تیکنیکی طور پرجتنے بھی بیٹسمین ہیں وہ ٹیسٹ اور ون ڈے کے ساتھ ساتھ ٹی ٹوئنٹی میں بھی یکساں کامیاب رہتے ہیں لیکن صرف ٹونٹی ٹونٹی کھیلنے والا بیٹسمین ٹیسٹ کرکٹ میں مشکل سے دوچار رہتا ہے۔


















