’پاکستان کا دورہ سکیورٹی سے مشروط‘

سری لنکن کرکٹرز اور آئی سی سی آفشیلز کی حفاظت سب سے مقدم ہے: نشانتھا رانا تنگا
،تصویر کا کیپشنسری لنکن کرکٹرز اور آئی سی سی آفشیلز کی حفاظت سب سے مقدم ہے: نشانتھا رانا تنگا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، کولمبو
  • وقت اشاعت

سری لنکن کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری نشانتھا رانا تنگا کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کو مستقبل میں بھی پاکستان کا دورہ کرنے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن اس کا انحصار سکیورٹی کی بہتر صورتحال پر ہوگا۔

واضح رہے کہ اس سال مارچ میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کو لاہور میں اسوقت دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب وہ تیسرے دن کے کھیل کے لیے قذافی اسٹیڈیم جارہی تھی۔

سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور چند سری لنکن کرکٹرز بھی زخمی ہوگئے تھے۔

نشانتھا رانا تنگا نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ نے ہمیشہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ تعاون کیا ہے اور مستقبل میں بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کھیل کر گئی ہے جبکہ پاکستان اے ٹیم اسوقت سری لنکا میں ہے اس کے علاوہ پاکستانی انڈر 19ٹیم کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

نشانتھا رانا تنگا نے جو سابق کپتان ارجنا رانا تنگا کے چھوٹے بھائی ہیں کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان جانا پسند کریں گے تاہم پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر سری لنکا آئی سی سی اور خود پاکستان کرکٹ بورڈ کا مطمئن ہونا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکن کرکٹرز اور آئی سی سی آفشیلز کی حفاظت سب سے مقدم ہے۔

دو ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والے نشانتھا رانا تنگا نے کہا کہ لاہور دہشت گردی کے بعد سری لنکن کرکٹرز کو شدید ذہنی کرب سے گزرنا پڑا ان کی ذہنی حالت معمول پر لانے کے لئے ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کرنی پڑی تب جاکر سری لنکن کرکٹرز معمول کی زندگی میں لوٹے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ اپنے کرکٹرز سے پاکستان جانے کے بارے میں ان کی رائے معلوم کرے کیونکہ کرکٹرز سے پہلے بورڈ خود سکیورٹی کے معاملات سے مکمل مطمئن ہونا چاہیے گا۔

نشانتھا راناتنگا نے کہا کہ 2011 کے ورلڈ کپ کے موقع پر سری لنکا میں سکیورٹی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دانشمندانہ سیاسی قیادت اور سکیورٹی فورسز کے سبب سری لنکا میں اب امن وامان قائم ہوچکا ہے اور انہیں یقین ہےکہ ورلڈ کپ کے میچز بھی احسن طریقے سے منعقد ہونگے۔

سری لنکا ایک کوارٹرفائنل اور ایک سیمی فائنل سمیت بارہ میچوں کی میزبانی کرے گا یہ میچز تین گراؤنڈز پر ہوں گے۔

نشانتھا راناتنگا نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ غیرضروری طور پر کھیلوں کے وزیر کے زیراثر ہے۔انہوں نے یہ ماننے سے بھی انکار کردیا کہ کرکٹ بورڈ کو ٹیمپل ٹری( ایوان صدر ) سے بھی ہدایتیں ملتی رہتی ہیں یا کرکٹرز بھی ٹیمپل ٹری کے چکر لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ اور کرکٹرز کے تعلقات خوشگوار ہیں تو پھر کرکٹرز کو کہیں اور سے مدد لینی کی کیا ضرورت ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بڑے بھائی ارجنا رانا تنگا کچھ عرصہ پہلے تک سری لنکن کرکٹ بورڈ کے سربراہ تھے جنہیں اچانک ہٹادیا گیا لیکن آپ موجود ہیں تو نشانتھا نے جواب دیا کہ اسی کا نام زندگی ہے۔جب آپ اس طرح کے عہدے پر کام کرتے ہیں تو آنا بھی ایسے ہی ہوتا ہے اور جانا بھی۔