بنگلہ دیش بغاوت: متعدد لاشیں برآمد

بنگلہ دیش بغاوت
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش بغاوت
وقت اشاعت

بنگلہ دیش میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس ہفتے باغی سرحدی محافظوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے درجنوں فوجی افسروں کی لاشیں ملی ہیں۔

سکیورٹی حکام نے بتایا کہ دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکوارٹر کے احاطے میں ایک اجتماعی قبر سے بیس لاشیں ملیں۔ یہ لاشیں اس وقت ملیں جب فوجی اہلکار ایک سو تیس سے زائد لاپتہ افراد کی تلاش کررہے تھے۔

بنگلہ دیش کی سرحد کے لیے کام کرنے والے بنگلہ دیش رائفلز کے سپاہیوں کی بغاوت ڈھاکہ سے شروع ہوکر کئی شہروں میں پھیل گئی تھی۔

جمعہ کو بیس لاشیں ملنے والے کے بعد اب اس ہفتے کی بغاوت میں ہلاکتوں کی تعداد چالیس ہوگئی ہے۔ جبکہ دیگر اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ستر سے زائد ہوسکتی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سپاہیوں کی بغاوت کم تنخواہ اور ملازمت کے بدترین حالات جیسے تنازعات سے شروع ہوئی تھی اور بنگلہ دیش کے کئی شہروں میں پھیل گئی تھی۔

حکومت کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے بعد زیادہ تر سرحدی محافظوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں لیکن فرار ہونے والے لگ بھگ تین سو سپاہیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ریپِڈ ایکشن بٹالین کے کمانڈر عبدالکلام آزاد نے بتایا کہ دارالحکومت ڈھاکہ سے باہر جانے والی سڑکوں اور بنگلہ دیش رائفلز کے بیرکوں کے اطراف میں سکیورٹی چیک پوسٹ قائم کیے گئے ہیں تاکہ مفرور سپاہیوں کو پکڑا جاسکے۔

دریں اثناء لاپتہ فوجی افسران اور باغی سپاہیوں کے اہل خانہ ڈھاکہ میں بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکوارٹر کے قریب اپنوں کے بارے میں معلومات کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش رائفلز کے لگ بھگ ستر ہزار سپاہی ہیں جو بیالیس بیرکوں میں ہیں، ان میں سے چالیس ہزار سرحد پر تعینات ہیں۔

ادھر ہندوستان کے شہر کولکتہ میں انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہندوستان کے ساتھ بنگلہ دیش کی سرحد کو بند کردیا گیا ہے۔