سوڈان میں صدر کے وارنٹ پر احتجاج

سوڈان نے بین الاقوامی عدالت کی طرف سے صدر عمر البشیر کے وارنٹ گرفتاری کرنے جاری کیے جانے کے بعد دس امدادی ایجنسیوں کی ملک بدری کا حکم جاری کردیا ہے۔ ہیگ میں فوجداری جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے سوڈان کے صدر عمرالبشیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ وہ پہلے ایسے صدر ہیں جن کے وارنٹ گرفتاری ان کے عہدہ صدارت کے دوران جاری کیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی عدالت نے سوڈان کے صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہوکر دارفور میں عام شہریوں سے ہونے والے سلوک کی جواب دہی کریں ۔
فوجداری عدالت نے عمر البشیر پر سات الزامات عاید کۓ ہیں جن کا تعلق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے ہے۔ عدالت کے اعلان کی مذمت کے لیے خرطوم میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
برطانیہ میں سوڈان کے سفیرعمر صدیقی نے کہا کہ سوڈانی صدر عدالت کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔' یہ عدالت نہیں ہے بلکہ ہم خیال ملکوں کا کلب ہے جس میں ایک سو اسی ملک ہیں لیکن ہم نہیں ہیں۔‘
امدادی تنظیموں کی ملک بدری کے بارے میں آکسفیم کی ترجمان خاتوں نے کہا کہ لاکھوں انسانوں پر اس کا تباہ کن اثر پڑے گا۔
ایک اندازے کے مطابق مغربی سوڈان میں حکومت اور باغیوں کے درمیان لڑائی میں کم سے کم تین لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عالمی عدالت میں تین ججوں کے پینل نے دارفور میں عمر البشیر کی حکومت کے اقدامات پر مقدمہ چلانے کے لیے انہیں عدالت میں پیش کرنے کی منظوری دی۔
صدر عمر البشیر کے مشیر مصطفےٰ عثمان اسماعیل نے وارنٹ جاری کرنے والی عدالت کو جدید نوآبادیاتی نظام کا حصہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا 'ہمیں عدالت سے بالکل اسی فیصلے کی توقع تھی جو محض سوڈان کی حکومت کو ہدف بنانے کے لیے تشکیل دی گئی ہے اور جو نئے سامراجی نظام کا جدید آلۂ کار ہے اور ہمیں یہ بھی یار رکھنا ہوگا کہ سوڈان کو نشانہ بنانے کی کارروائی کوئی نئی بات نہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامے نگار کے مطابق صدر عمر البشیر کی گرفتاری کے احکامات کے اجراء کے بعد عالمی برادری کے دو کیمپوں میں بٹ جانے کا امکان ہے۔ ان کیمپوں میں برطانیہ، امریکہ اور فرانس ایک طرف ہوں گے اور افریقی یونین، عرب لیگ اور چین دوسری طرف۔
مصر کا خیال ہے کہ وارنٹ جاری ہونے سے باغی گروہوں کے ساتھ جاری مذاکرات متاثر ہوں گے اور اس کے پڑوس میں عدم استحکام کا باعث بنیں گے۔ مصر کی حکومت چاہتی تھی کہ عالمی عدالت وارنٹ کا معاملہ ایک سال کے لیے مؤخر کر دے تاکہ سوڈان کے صدر کو کام کرنے کا موقع مل سکے۔
اسی سلسلے میں دو ہفتے قبل مصر کے صدر نے فرانس کا دورہ کیا تھا اور اپنے فرانسیسی ہم منصب سے مزید وقت کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم مغربی ممالک کا خیال ہے کہ یہ وارنٹ کا خوف ہی تھا کہ اچانک سوڈان کی حکومت کی سوچ تبدیل ہوئی اور جنگ بندی کا اعلان ہوا۔






















