جی ٹؤنٹی اجلاس: ’بحران‘ پر اختلافات

دنیا کی امیر اور نئی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ جی ٹؤنٹی کے رکن ممالک کے وزرا کا اجلاس برطانیہ میں شروع ہوگیا ہے، تاہم رکن ممالک کے درمیان موجودہ شدید عالمی مندی سے نکلنے کی تجاویز پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔
موجودہ اجلاس میں رکن ممالک کے وزرا کے علاوہ ان کے مرکزی بینکوں کے سربراہان بھی شرکت کر رہے ہیں اور اجلاس میں مختلف ممالک تجاویز پیش کریں گے کہ موجودہ بحران کو حل کرنے کے لیے کیا کِیا جا سکتا ہے۔
امریکہ کی تجویز ہے کہ حکومتیں زیادہ سے زیادہ خرچ کر یں لیکن کچھ یورپی حکومتوں کی خواہش ہے کہ بحران پر قابو پانے کے لیے مالیاتی مارکیٹوں کے بارے میں قوانین پر زیادہ توجہ دیں۔
موجودہ اجلاس کا مقصد اگلے ماہ لندن میں ہونے والی جی ٹؤنٹی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس کے ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔
یورپ میں اختلافات
جی ٹؤنٹی دنیا کے مضبوط ترین بیس ممالک کا ایک رسمی گروپ ہے جو عالمی معیشت کے پچاسی فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس میں امریکہ اور جرمنی جیسے دنیا کے بڑے بڑے صنعتی ممالک اور برازیل اور چین جیسے معاشی اعتبار سے ابھرتے ہوئے ممالک شامل ہیں۔
سنیچر کو اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے میزبان ملک برطانیہ کے وزیر خزانہ ایلسٹر ڈارلنگ نے کہا کہ انہیں خاصا یقین ہے کہ اجلاس کے تین خاص مقاصد پر پیش رفت ہوگی۔ ان مقاصد میں رکن ممالک کی معیشتوں کو بہتر بنانا، بینکوں کو دوبارہ اس قابل بنانا کہ وہ قرضے دے سکیں اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ان اقدامات کے فوائد پوری دنیا تک پہنچیں، شامل ہیں۔
برطانیہ بھی امریکہ کے اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ یورپی ممالک کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملکوں کو مندی سے نکالنے کے لییے مزید اقدامات اٹھائیں۔ لیکن مغربی یورپ کی حکومتوں اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔ لگتا ہے کہ یہ ممالک اس وقت تک بینکوں اور دیگر اداروں کو مزید حکومتی امداد نہیں دیں گے جب تک وہ گزشتہ مہینوں میں دی گئی امداد کے نتائج نہ دیکھ لیں۔ اس معاملے پر جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اس ہفتے ایک بیان دے چکی ہیں۔ ان کے خیال میں ان اداروں کو مزید حکومتی امداد فراہم کرنا مسئلہ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسا نظام ترتیب دیا جائے کہ مستقبل میں اس قسم کے بحران پیدا ہی نہ ہوں۔
دریں اثنا ایلسٹر ڈارلنگ نے اس خیال کو زیادہ اہمیت نہیں دی کہ اگلے ماہ کے سربراہ اجلاس میں یورپی ممالک کے اختلافات کھل کر سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر رکن ممالک میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’صاف ظاہر ہے کہ اگر ایک کمرے میں بیس افراد بیٹھے ہیں تو خیالات کا فرق تو ہو گا۔ ہر ملک کوفیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کرنا چاہتا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















