واشنگٹن میں ایڈز وباء کی صورت

واشنگٹن میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس مرض سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنواشنگٹن میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس مرض سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں
وقت اشاعت

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایڈز کا مرض وبائی صورت اختیار کر گیا ہے اور شہر کے شعبہ صحت کے مطابق بارہ سال سے زیادہ عمر کے تین فیصد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں جو کہ افریقہ کے چند علاقوں سے زیادہ تشویشناک صورت حال بتائی جاتی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مرض شہر کے سیاہ فام مرد افراد جن کی عمریں چالیس سے انچاس سال کے درمیان ہے زیادہ عام ہے۔

ایڈز کے مریضوں کی شرح کے اعتبار سے واشنگٹن افریقی ملک یوگینڈا کے برابر آ گیا ہے۔

واشنگٹن میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے ٹیسٹ کرنے کی مہم میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے بہت سے اقدامات اٹھا رہی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکی ’سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پروینشن‘ نے ہمیشہ ایچ آئی وی کی وباء کو شدید اورتشویشناک قرار دیا ہے جب اس کی شرح کسی مخصوص آبادی میں ایک فیصد سے زیادہ ہو۔

واشنگٹن ڈی سی میں یہ شرح تین گنا زیادہ ہے۔ اس کا موازنہ اگر کینسر سے کیا جائے تو صرف ایک فیصد امریکی کینسر کے مرض کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تین فیصد کی شرح بھی اصل صورت حال کی عکاسی نہیں کرتی کیونکہ بہت سے شہری ابھی اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ وہ اس بیماری کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر میں یہ وباء تقریباً تمام نسلی گروہوں اور طبقات اور عمروں کے افراد میں پائی جاتی ہے۔ سیاہ فام افراد اس سے سب سے زیادہ متاثر ہیں جن میں یہ شرح چھ اعشاریہ پانچ فیصد، ہسپانی نژاد افراد میں تین فیصد اور سیفد فام افراد میں یہ دو اعشاریہ چھ فیصد ہے۔

عمروں کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ افراد چالیس سے انچاس سال کے ہیں جن میں یہ شرح سات اعشاریہ دو فیصد ہے۔ جبکہ پچاس سے انسٹھ سالہ افراد میں یہ شرح پانچ اعشاریہ دو فیصد ہے۔

اس مرض کے پھیلنے کی بڑی وجوہات میں مردوں میں ہم جنس پرستی، ایک سے زیادہ افراد سے جنسی تعلقات اور منشیات کا استعمال شامل ہیں۔

واشنگٹن میں ایڈز کے مرص کے سدباب کے سب سے بڑے مرکز ویٹ مین والکر کلینک کے چیف میڈیکل افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایڈز کے مرض میں مبتلا افراد کی حقیقی شرح کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر ریمنڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ جب آبادی کے ایک بڑے گروہ میں ایچ آئی وی کے ٹیسٹ کرائے گئے تو یہ شرح پانچ فیصد کے قریب نکلی جو کہ تین فیصد سے کہیں زیادہ ہے لیکن زیادہ تر لوگوں نے ایچ آئی وی کا ٹیسٹ ہی نہیں کروایا ہے۔