صدر اوباما ٹی وی چیٹ شو میں مہمان

امریکی صدر براک اوباما امریکہ کے ایک مقبول ٹی وی چیٹ شو میں شریک ہوئے ہیں جہاں انہوں نے مالیاتی بحران سے نمٹنے کی اپنی حکومت کی پالسیوں پر بھی بات کی ہے۔
صدر اوباما جمعرات انیس مارچ کو ٹی وی چینل این بی سی کے ’ٹونائٹ شو‘ میں مہمان تھے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عہدہ صدارت پر فائز کوئی صدر اس شو میں شریک ہوا ہو۔
اس موقع پر امریکی صدر نے مالیاتی بحران پر بھی بات کی۔ انہوں نے انشورنس کمپنی اے آئے جی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ کمپنی کے اس فیصلے سے چونک گئے تھے جس میں کمپنی نے خسارے سے بچنے کے لیے حکومتی امداد لینے کے بعد اپنے اعلی افسروں کو بڑے بڑے مالی انعامات یعنی بونسز دینے شروع کر دیے۔
حکومتی امداد کے بعد اے آئے جی کے اسی فیصد حصص حکومت کے ہیں۔ کمپنی کی خراب کارکردگی کے باوجود اس کے افسروں کو بونسز دینے پر امریکہ میں عوام اور میڈیا کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ اب امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایک قانون کی حمایت کی گئی ہے جس کے تحت حکومتی امداد سے بچائی جانے والی کسی بھی کمپنی میں اگر افسروں کو بونس دیے گئے تو حکومت اس پر نوے فیصد ٹیکس کاٹ لے گی کیونکہ ان کمپنیوں کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ہی بچایا گیا ہے۔
صدر اوباما نے کہا کہ اے ائے جی کے بونسز کا معاملہ ایک مسئلہ تو ہے لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ’اب ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا اور ایسی سوچ کی طرف واپس جانا ہوگا جس میں لوگوں کو ذمہ داری محسوس ہو اور ان کو اپنے حدود کا احساس ہو۔ اگر ہم ایسی سوچ اور ایسے اقدار پر واپس آجائیں تو میرا خیال ہے کہ ہم صورتحال کو سنبھال لییں گے۔‘
انہوں نے مالیاتی قوانین کے اصلاحات کے اپنے پیکیج کے بارے میں کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ مالیاتی بحران کے ذمہ دار فیصلے اور کارروائیاں غیر ذمہ دار تھیں لیکن قانون کے دائرے کے اندر تھیں۔
امریکی صدر نے اپنے وزیر خارجہ ٹمتھی گئتھنرکی تعریف کی اور کہا کہ وہ ایک بہت مشکل صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں ’صرف بینکوں کے شعبے میں بحران ہی نہیں ان کو تیس کی دہائی کے اقتصادی بحران کے بعد بد ترین کساد بزاری سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ گئتھنر بہت اچھی طرح سے اپنا کام کر رہے ہیں۔‘
ریاست کیلی فورنیا میں فلمائے جانے والے اس ٹاک شو میں صدر اوباما پیتیس منٹ تک رہے اور انہوں نے اس دوران میزبان جے لینو سے دوسرے موضوعات پر بھی بات کی۔ ان پر تنقید کرنے والوں کے حوالے سے صدر نے کہا ’واشنگٹن میں کام کرنا ایسا ہے جیسے (ٹی وی شو) امیرکن ائڈل پر جانا بس فرق یہ ہے کہ وہاں ہر شخص سائمن کاول ہے۔‘ (سائمن کاول ٹی وی کے اس مقبول ٹیلنٹ شو کے میزبان ہیں اور وہ شرکاء پر بہت تنقید کرتے ہیں، اور حوصلہ افزائی کم ہی کرتے ہیں۔)
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وعدے کے مطابق وہ اپنی بیٹیوں کے لیے پالتو کتا لے کر آئیں گے اور یہ جلد ہو جائے گا۔
صدر اوباما کے حامی ان کو اس چیٹ شو میں دیکھ کر خوش ہوئے ہیں لیکن ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ایسے شو پر آکر صدر نے اپنے عہدے کا تقدس پا مال کیا ہے۔






















