کوئی تبدیلی نہیں آئی: ایران

ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای
،تصویر کا کیپشنایران میں قومی پالیسی سے متعلق فیصلوں پر آیت اللہ خامنہ ای کی بات کو حرفِ آحر مانا جاتا ہے
وقت اشاعت

ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے تئیں امریکی رویہ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ ٹیلی وثرن پر براہِ راست نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایران کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے تبدیلی کا محض نعرہ لگایا ہے لیکن عملاً اس کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘۔

امریکی صدر اوبامہ کی پیشکش اور امریکہ، ایران تعلقات کے بارے میں خامنہ ای کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آسکتی جب تک امریکی صدر ایران کے تئیں امریکہ کی مخاصمانہ پالیسی کا خاتمہ کر کے خارجہ پالیسی میں ’حقیقی تبدیلی‘ نہیں کرتے۔

جمعرات کوامریکی صدر نے ایرانی عوام کے نام ایک ویڈیو پیغام میں تہران کے ساتھ رابطوں کے سلسلے کے نئے آغاز کی پیشکش تھی ان کا یہ پیغام ایران میں آمدِ بہار کے موقع پر جشنِ نوروز کے سلسلے میں دیا گیا تھا۔

پیغام میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’میری انتظامیہ کی پوری کوشش ہو گی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ کا تہیہ ہے کہ ’امریکہ، ایران اور دنیا کے درمیان مثبت روابط قائم ہوں‘۔

تاہم انہوں نے خبر دار کیا تھا کہ ’امن کا یہ عمل دھمکیوں سے آگے نہیں بڑھے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ رابطے دیانتداری اور باہمی احترام پر مبنی ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کو عالمی برادری میں اپنا جائز مقام حاصل ہو۔ ایران کو یہ حق حاصل ہے لیکن یہ حق ذمہ داریوں کے بغیر نہیں ملے گا۔

ایران میں قومی پالیسی سے متعلق فیصلوں پر آیت اللہ خامنہ ای کی بات کو حرفِ آخر مانا جاتا ہے اور ایران کو ساتھ لیکر چلنے کی امریکی کوششوں کی کامیابی کا دارومدار آیت اللہ کے قول پر ہوگا۔