سوچی کی نظر بندی غیر قانونی:اقوام متحدہ

سوچی
،تصویر کا کیپشنسوچی گزشتہ انیس برس میں سے تیرہ برس نظر بند رہی ہیں
وقت اشاعت

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ برما کی حزب اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی کی نظر بندی برما کے قانون سمیت بیرونی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کے آربٹری ڈیٹنشن کے ورکنگ گروپ (قانون کی پرواہ کیے بغیر تحویل میں لینے کے خلاف کام کرنے والا گرپ ) نے آنگ سان سوچی کو فوری طور پر رہا کرنے کو کہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ورکنگ گرپ کا کہنا تھا کہ سوچی کو دو ہزار آٹھ میں پھر سے نظر بند کیے جانا نہ صرف بیرونی قانون بلکہ برما کے قومی قانون کے بھی خلاف ہے۔ پینل کے مطابق برما کے قانون کے مطابق جو بھی فرد سکیورٹی کے مدنظر خطرہ نظر آتا ہے تو اسے بنا کسی الزام کے حراست میں لے لیا جاتا ہے۔

آنگ سان سوچی نےگزشتہ انیس برس میں سے تیرہ برس نظر بندی میں گزارے ہیں اور ان کے کئی ڈیموکریٹک اتحادی جیل میں قید رہے ہیں۔

واشنگٹن ميں مقیم محترمہ سوچی کے قانونی مشیر جارڈ جنسر کے مطابق اس بات کی امید کم ہی ہے کہ برما کی فوجی حکومت اقوام متحدہ کی صلاح پر غور کرے۔جنسر کا کہنا ہے کہ اس پینل کو ایک آزادانہ پینل کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے کیوں اس میں چلی ، پاکستان ، روس، سینیگال اور سپین جیسے ملک شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی تحقیق کاروں نے برما سے دو ہزار سے زیادہ سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور محترمہ سوچی کی جلد سے جلد رہائی پر غور کرنے کو کہا تھا۔ برما میں 1962 سے فوج اقتدار میں ہے۔