فلسطینیوں سے مذاکرات کریں گے: نتن یاہو

لیکود پارٹی کے رہنما بنیامن نتن یاہو
،تصویر کا کیپشنبنیامن نیتن یاہوس کے بیان سے لیکود کے موقف میں نرمی نظر آ رہی ہے
وقت اشاعت

اسرائیل کے متوقع وزیر اعظم اور لیکود پارٹی کے رہنما بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ مل کر امن کے لیے کام کرے گی۔

مسٹر نیتن یاہو نے یہ بات یروشلم میں ہونے والی ایک اقتصادی کانفرنس کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ وہ امن کے قیام میں اہم شراکت دار ہونگے اور فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ اس سے پہلے وہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ مسٹر نیتن یاہو اس طرح کے بیانات سے یہ تاثر بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ امن کی مخالفت کرنے والے دائیں بازو کے سیاستدانوں میں شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بات لیبر پارٹی کے رہنما ایہود براک کی مخلوط حکومت میں شمولیت پر رضامندی کے ایک ورز بعد کہی۔ مسٹر براک کی جماعت کے کئی کارکنوں نے ان کے فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے کیونکہ وہ لیکود پارٹی کی پالسیوں کے مخالف رہے ہیں۔

اس صورتحال میں مسٹر نیتن یاہو پر مشرق وسطی میں دو ریاستی منصوبے کی حمایت کرنے کے لیے دباؤ بڑھا ہے۔

مسٹر نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ نہ صرف امن کے لیے کام کریں گے بلکہ وہ فلسطینیوں کے امن اور استحکام کے لیے کام کریں گے۔

اسرائیل کے متوقع وزیر اعظم کے بیان پر فلسطینیوں نے محتاط رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ فلسطینیوں کے سینئیر مذاکرات کار صائب عریقات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کو ماضی کے معاہدوں پر عمل کرنا ہوگا اور نئے وزیر اعظم کے بارے میں فلسطینی رائے بیانات پر نہیں بلکہ ان کی کارکردگی پر مبنی ہوگی۔

مسٹر نیتن یاہو اس سے پہلے انیس سو پچانوے سے انیس سو ننانوے تک اسرائیل کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔