انڈونیشیا، ڈیم ٹوٹنے سے پچاس ہلاک

کفن
،تصویر کا کیپشنجکارتہ میں کفن میں لپٹی لاشیں ورثاء کے انتظار میں
وقت اشاعت

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے نزدیک کیپوتات شہر کے نواح میں واقع ڈیم ٹوٹنے سے پچاس افراد ہلاک ہو گئے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تیرہ فٹ اونچی لہروں کے خوفناک سیلاب نے تنگیرنگ میں سینکڑوں گھروں کو لپیٹ میں لے لیا۔

ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ڈیم کیسے ٹوٹا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ گھنٹوں کی تیز بارش کے باعث ڈیم کے پیچھے ستوُ گنتُنگ نہر میں پانی کی سطح بہت بڑھ گئی تھی۔ کئی دہائی پرانا ڈیم نہر پر بنایا گیا ہے۔

بہت زیادہ مٹی کی وجہ سے امدادی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہے لیکن پانی میں کمی آ رہی ہے۔

یہ واقعہ تقریباً رات دو بجے پیش آیا۔ یہ وہ علاقہ ہے جو سیاحت کے لحاظ سے کافی مشہور ہے۔

رات کو تیز پانی اور ملبے کے ریلے نے سینکڑوں مکانوں کو اپنی زد میں لے لیا۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’سیلاب کے وقت لوگ سو رہے تھے۔ بہت سے لوگ ابھی بھی پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو بچانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔‘

مقامی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا کے صدر سسیلو بمبنگ کا علاقے کا دورہ کرنے کا ارادہ ہے۔ نائب صدر اور وزیر برائے ویلفیئر پہلے ہی علاقے کا دورہ کرچکے ہیں۔

ایک رہائشی ہمدانی نے بتایا ’میں نے اپنے خاندان کو گھر سے نکالا، میں نے اپنے ہمسائے کو دیکھا جو اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ پانی میں بہہ رہا تھا۔ اس نے مدد کے لیے پکارا لیکن پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا۔‘

ایک اور رہائشی ستو نے کہا کہ ان کو سائرن کی آواز آئی اور پھر پانی ان کے گھر میں داخل ہو گیا اور گھر کے اندر آٹھ فٹ پانی جمع ہوگیا۔ ’پانی کا ریلا اتنی جلدی آیا کہ سنبھلنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ میرا گھر تقریباً تباہ ہو گیا ہے لیکن شکر ہے کہ میرے خاندان والے محفوظ ہیں۔‘

ایک اور رہائشی نے بتایا کہ لوگ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار سات میں جکارتہ میں سیلاب آنے سے پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔