اوبامہ کی افغان، پاک پالیسی بش سے جدا

- مصنف, کم غتاس
- عہدہ, بی بی س نیوز، واشنگٹن
- وقت اشاعت
امریکہ کے صدر باراک اوباما نے پاکستان اور افغانستان سے متعلق اپنی نئی پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔
سی آئی اے کے سابق اہلکار بروس رائڈیل کی قیادت میں پاکستان اور افغانستان سے متعلق بش پالیسیوں کا جائزہ لیے جانے کے بعد باراک اوباما نے ان ملکوں سے متعلق ایسی پالیسیوں کا اعلان کیا ہے جو کئی سطح پر بش انتظامیہ کی پالیسیوں سے مختلف ہیں۔
شدت پسندی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے افغانستان اور پاکستان میں امریکہ کے کردار کے بارے میں بھی اوباما نے جس انداز میں بات کی وہ بھی بش انتظامیہ کے انداز سے جدا تھا۔
اوبامہ نے بش کی طرح یہ نہیں کہا کہ شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں یہ تو دنیا ' انکے ساتھ ہے یہ انکے خلاف' ، نہ ہی بش کی طرح یہ کہا کہ ہم شدت پسندوں کو انکے ٹھکانوں سے اڑا دیں گے بلکہ انہوں نے سختی سے یہ کہا ہم 'شدت پسندوں کو شکست دیں گے۔'
انہوں نے یہ کہا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں امریکہ، افغانستان اور پاکستان ایک ساتھ ہیں اور شدت پسندی سے جتنا خطرہ امریکہ کو ہو اتنا ہی پاکستان اور افغانستان کو بھی۔ اوباما نے کہا ' ہم افغانستان میں اس عام دشمن کو شکست دینے کے لیے موجود ہیں جس سے امریکہ، اسکی دوست اور اتحادیوں، اور پاکستان اور افغانستان کو خطرہ ہے اورجس کے ہاتھوں ہم سب متاثر ہوئے ہیں'۔
انکا مزید کہنا تھا ' پوری دنیا میں لوگوں کی حفاظت خطرے میں ہے'۔
اوباما کے اس انداز اور اس لہجے میں بات کرنے سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں وہ پاکستان اور افغانستان کی حکومت اور عوام کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں وہ سب ساتھ ہیں۔ اور یہ لڑائی صرف خطے کےلوگوں اور مسلمانوں کی نہیں ہے۔
اوباما کے اعلانات سے یہ بات صاف ہے کہ اوباما انتظامیہ کی توجہ افغانستان اور پاکستان پر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بش کے اقتدار میں طالبان کے زوال کے بعد القاعدہ کے خلاف لڑائی اور افغانستان کی ازسرنو بحالی کے نظر انداز کر دیا گیا تھا کہ اور واشگنٹن کی پوری توجہ عراق جنگ پر مرکوز تھی۔
اوباما نے کہا کہ گزشتہ تین برس میں افغانستان کو وہ امداد نہیں فراہم کی گئی جس کی اس کو ضرورت تھی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ افغانستان میں زیادہ سے زیادہ ڈیویلپمنٹ پروجیکٹس فراہم کریں گے اور افغان فورسز کو ٹریننگ فراہم کریں گے۔ یہ مانتے ہوئے کہ افغانستان اور پاکستان دو الگ الگ ممالک ہیں اور انکی اصلیت مختلف ہیں انہوں نے دونوں ممالک کے لیے ایک سی حکمت عملی کا اعلان کیا۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں انکی کامیابی سے اگر پاکستان میں تشدد میں اضافہ ہوتا ہے تو افغانستان کی کامیابی کامیابی نہیں کہلائے گی۔ باراک اوباما نے اپنے نئے منصوبوں کو عمل میں لانے کی کوئی وقت مقرر نہیں کیا بلکہ دونوں ممالک کے تئین ایک لانگ ٹرم کمٹمنٹ کی بات کہی۔
پاکستان نے ماضی میں یہ شکایت کی ہے کہ امریکہ اور اسکے درمیان رشتہ لین دین کا ہے۔
اوباما کی نئی حکمت عملی کے اعلان سے پہلے امریکہ کے سینئر اہلکار نے بی بی سی کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کی عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا ' ہم آپ کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں شکار ہونے کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔'
اوباما نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو امداد دینا اور ترقیاتی منصوبے فراہم کرنا انکی نئی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
نیا امریکی انتظامیہ مغربی اور شمالی افغانستان میں اپنی موجودگی مزید وسیع کرسکتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان نے اوباما انتظامیہ کی نئی حکمت عملی کی خیر مقدم کیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔






















