برطانیہ کا فاک لینڈ پر بات کرنے سے انکار

فاک لینڈ جزیرے پر دونوں ملکوں کے درمیان 1982 میں جنگ ہو چکی ہے
،تصویر کا کیپشنفاک لینڈ جزیرے پر دونوں ملکوں کے درمیان 1982 میں جنگ ہو چکی ہے
وقت اشاعت

برطانیہ نے ارجنٹائن کی طرف سے فاک لینڈ جزیرے کی خود مختاری سے متعلق بات چیت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ارجنٹائن کی کی صدر کرسٹینا کرچنر نے چلی میں ہونے والی کانفرنس کے دوران برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن سے فاک لینڈ جزیرے کی خود مختاری سے متعلق بات چیت کرنی چاہیے جس برطانیہ نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کی فاک لینڈ پر کوئی پوزیشن تبدیل نہیں ہوئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ فاک لینڈ جزیرے کے رہائشیوں کی رائے کا احترام کیا جائے۔

ارجنٹائن فاک لینڈ جزیرے پر اپنا حق جتاتا ہے اور اس نے 1982 میں جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس پر دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔

ارجنٹائن کے وزیر خارجہ جورگ ٹائینا نے برطانوی وزیر اعظم اور ارجنٹائن کے صدر کے درمیان ملاقات کے بعد بتایا کہ ارجنٹائن کی صدر نے برطانوی وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق دونوں ملکوں کو فاک لینڈ کے مسئلے پر بات چیت کرنی چاہیے۔

برطانیہ کے ایک اہلکار نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد بتایا کہ برطانوی وزیر اعظم نے فاک لینڈ کے بارے برطانیہ کی پالیسی کا وضاحت کی اور دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ملکوں کے خیالات مختلف ہیں۔