انڈونیشیا: امدادی آپریشن جاری، 93 ہلاک

انڈونیشیا
،تصویر کا کیپشنبہت زیادہ مٹی کی وجہ سے امدادی کام میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے
وقت اشاعت

انڈونیشیا کے شہر کیپوتات کے نواح میں واقع ڈیم ٹوٹنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 93 تک پہنچ چکی ہے۔ امدادی آپریشن اب بھی جاری ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

تقریباً 700 امدادی کارکن اور رضاکار ٹوٹے ہوئے ڈیم کے ملبے سے لاشیں نکالنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گھنٹوں جاری رہنے والی موسلا دھار بارش کے باعث جمعہ کی صبح ستوُ گنتُنگ نہر میں پانی کی سطح بہت بڑھ گئی تھی جس کے باعث ڈیم ٹوٹ گیا اور تنگرینگ علاقے کے چار سو مکانوں کو بہا لے گیا۔

کئی دہائی پرانا ڈیم ستو گنتنگ نہر پر بنایا گیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ڈیم ٹوٹنے سے آنے والا پانی کا ریلا سونامی سے مشابہہ تھا۔ انڈونیشیا کے صدر سسیلو بمبنگ نے جمعہ کو متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور متاثرین کے گھروں کی تعمیر نو کا وعدہ کیا۔

تقریباً رات کے دو بجے ڈیم کی دیوار میں 70 میٹر بڑا شگاف پڑ گیا جس کے بعد پانی کے بڑے ریلے اور ڈیم کے ملبے نے سینکڑوں مکانوں اور دیگر عمارتوں کو اپنی زد میں لے لیا۔ لکڑی کے کمزور مکانات اور کنکریٹ کی بظاہر مضبوط عمارتیں سب ہی ریلے میں بہہ گئے۔

ریسکیو کے ایک اہلکار سیاتنو نے بتایا ہے کہ اب تک 93 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ بہت سے لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو بچانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ تقریباً 102 افراد اب تک لاپتہ ہیں۔

16 میٹر اونچا یہ ڈیم ہالینڈ کی نوآبادیاتی حکومت نے 1933 میں تعمیر کروایا تھا اور یہ مٹی سے بنایاگیا تھا۔ اس میں دو ملین کیوبک فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تھی۔

ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ 1933 میں تعمیر کے بعد سے اب تک اس کی کوئی خاص مرمت یا دیکھ بھال نہیں کی گئی۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ کہ انڈونیشیا کے کئی ڈیموں کی حالت ایسی ہی ہے۔

انڈونیشیا کے ایک اخبار جکارتہ گلوب کے مطابق سریندو علاقے کے مکینوں نے ایک سال قبل ڈیم میں پڑنے والے کریک کی نشاندہی کی تھی۔اخبار کے مطابق یہ لوگ سیلاب سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ از خود انخلاء کی تربیت بھی کرتے رہے ہیں۔

تاہم جمعرات کی موسلا دھار بارش کے بعد جمعہ کی صبح ڈیم اس وقت ٹوٹا جب لوگ سو رہے تھے۔

جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کیتھرین ڈیموپولوس کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ بہت پرانا ہے جہاں پانی کے نکاس کا نظام انتہائی خراب حالت میں ہے اور جہاں بارش کے باعث ہی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار سات میں جکارتہ میں سیلاب آنے سے پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔