نیٹو ممالک پاکستان کی مدد کریں: اوباما

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ اگر یورپی ممالک انتہا پسندی کے خطرے کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں پاکستان کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنا ہوگی۔
نیٹو کی اسٹراسبرگ کانفرنس میں شرکت سے پہلے امریکی صدر نے جرمن شہر باڈن باڈن میں چانسلر اینگلا مرکل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر افغانستان اور پاکستان کے لیے نئی امریکی حکمت عملی کے اہم نکات کو دہرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی سرزمین پر انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے نیٹو افواج کے استعمال کے حق میں نہیں بلکہ اس کام کے لیے نیٹو ممالک کو پاکستان کی مدد کرنا چاہیے تاکہ وہ اس خطرے سے خود نمٹ سکے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’پاکستان پر میرے توجہ مرکوز کرنے میں یہ بات شامل نہیں کہ نیٹو دستے پاکستان میں سرگرم ہوں۔ ہاں اس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ نیٹو اتحادی اور امریکہ مزید موثر طور پر کام کریں تاکہ پاکستان کو اس قابل کر سکیں کہ وہ انتہا ہسندوں کی پناہ گاہوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ یہ انتہا پسند صرف ہمارے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی غیرمعمولی خطرہ ہیں‘۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ نیٹو اتحادیوں سے کہیں گے کہ پاکستان کی زیادہ سے زیادہ سے مدد کی جائے اور ترقی کی راہ میں پاکستان کا ہاتھ بٹایا جائے۔ براک اوباما نے کہا کہ ’جتنے زیادہ سفارتی وسائل ہم اس معاملے میں استعمال کریں گے، اتنے ہی زیادہ ملک ترقی کی خاطر پاکستان کی مدد کریں گے اور اتنے ہی موثر انداز میں ہم پاکستانیوں کی تربیت کر کے ہاتھ بٹا سکتے ہیں تاکہ انہیں اب تک کے روایتی خطرات کے بجائے ایک مختلف انداز کے تنازعے سے نمٹنے میں مدد دی جاسکے۔ یہی وہ معاملات ہیں جن میں میرے خیال میں نیٹو بڑے موثر انداز میں کام کرسکتی ہے‘۔
خیال رہے کہ لندن میں جی ٹوئنٹی اجلاس میں شرکت کے بعد جمعہ کو امریکی صدر نے معاہدۂ شمالی اوقیانوس یا نیٹو ممالک سے کہا تھا کہ القاعدہ سے پوری طاقت سے لڑنے کی ضرورت ہے کیونکہ القاعدہ امریکہ سے زیادہ یورپ کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے افغانستان میں نیٹو کے مشن کو ایک بین الاقوامی مشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ یورپ کے مضبوط دفاع کو دیکھنا چاہتا ہے اور وہ یورپ کا سرپرست نہیں بلکہ اس کا ساتھی بننا چاہتا ہے۔


















