اوباما نے برٹش بُک ایوارڈ جیت لیا

اوباما
،تصویر کا کیپشناوباما نیٹو کانفرنس کی مصروفیات کے باعث ٹرافی وصول کرنے تقریب میں موجود نہیں تھے
وقت اشاعت

امریکی صدر بارک اوباما نے اپنی جوانی میں لکھی گئی خودنوشت سوانح حیات 'ڈریمز فرام مائی فادر‘ پر برٹش بک ایوارڈ جیت لیا ہے۔

اس اعزاز کے لیے اوباما کو پال او گارڈی اور ڈان فرنچ کی جانب سے مقابلے کا سامنا تھا۔

یہ کتاب اوباما کی جوانی کی یادوں پر مبنی ہے۔ ایوارڈ کے اعلان کے وقت اوباما اہم نیٹو کانفرنس کی مصروفیات کے باعث اپنی ٹرافی وصول کرنے کے لیے تقریب میں موجود نہیں تھے۔

دوسری جانب ’سال کے بہترین لکھاری‘ کا اعزاز اراوند ادیگا نے اپنی کتاب ’دی وہائٹ ٹائیگر‘ پر حاصل کیا جبکہ اوبامہ دوسرے نمبر پر رہے۔ اس کیٹیگری کے لیے اوباما کا سیاسی تھیسس’دی اوڈیسیٹی آف ہوپ‘ نامزد کیا گیا تھا۔

کیٹ سمر سکیل ادیبوں کو دیئے جانے والے دو اعزازات جیت گئیں جن میں ’نان فکشن ایوارڈ‘ اور ’سال کی بہترین کتاب‘ شامل تھے۔ سال کی بہترین کتاب کا اعزاز لینے والی کتاب تھی ’دی سسپیشن آف مسٹر وچر‘ جوکہ ایک پراسرار وکٹورین قتل کی کہانی ہے۔

’بچوں کے لیے بہترین کتاب‘ کا اعزاز سٹیفنی میئر کو ’بریکنگ ڈان‘ پر ملا جو کہ خون پینے والی بلا یا ’ویمپائر‘ کی کہانی ہے۔

’بہترین کرائم تھرلر‘ کا ایوارڈ سٹیج لارسن نے اپنی کتاب ’دی گرل ود س ڈریگن ٹیٹو‘ پر حاصل کیا۔ سوئٹزرلینڈسے تعلق رکھنے والے 50 سالہ ادیب کی موت کے بعد اس کتاب کا انگریزی ترجمہ گزشتہ برس ہی شائع ہوا تھا۔

سباسٹیئن فاکس کو ان کی مشہور زمانہ جیمز بانڈ کی کہانی ’ڈیول مے کیئر‘ پر معروف فکشن کا اعزاز دیا گیا۔