’عراقی اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں‘

براک اوباما
،تصویر کا کیپشندو ہزار گیارہ تک عراق سے تمام امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہو جائے گا
وقت اشاعت

امریکہ کے صدر براک اوباما نے عراق کے غیر اعلانیہ دورے کے موقع پر کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عراقی اپنے ملک کی ذمہ داریاں خود سنبھال لیں۔

صدر براک اوباما صدرات کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار عراق کے دورے پر بغداد پہنچے تھے۔ ان کا یہ دورہ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر آخری وقت تک خفیہ رکھا گیا تھا۔

صدر اوباما عراق کے پانچ گھنٹے کے مختصر دورے پر بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد سڑک کے ذریعے عراق میں ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب تعینات امریکی فوج کے سربراہ جنرل رے اوڈرنو سے ملاقات کے لیے پہنچے۔

اس موقع پر صدر اوباما نے عراق میں ایک مؤثرفوجی آپریشن کرنے پر امریکہ جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ بعد میں صدر اوباما نے وکٹری کیمپ میں جمع چھ سو کے قریب امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی مدد سے عراق کو ایک جمہوری ملک بنانا ممکن ہوا ہے جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے جس پر امریکہ کی عوام آپ کی شکرگزار ہے۔‘

اس سے پہلے صدر اوباما عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی فوج کے کیمپ وکڑی میں چھ سو کے قریب امریکی فوجیوں سے ملاقات کے لیے پہنچے تو وہاں موجود فوجیوں نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر امریکی فوجیوں نے نعرے لگائے کہ ’اوباما ہمیں آپ سے پیار ہے‘۔

صدر اوباما نے امریکی فوجیوں سے خطاب میں کہا کہ آپ کے لیے اگلے اٹھارہ ماہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی فوجی اس سال موسم گرما کے آخر تک عراق کے شہروں سے نکل جائیں اور دو ہزار دس کے اختتام تک اپنے وطن لوٹ جائیں۔ جبکہ بہت کم تعداد میں فوجی مشیر اور ان کو مدد فراہم کرنے والے چند اراکین دو ہزار گیارہ تک عراق میں رہیں گے۔

صدر اوباما نے امریکی فوجیوں سے ہاتھ ملانے اور ان کے ساتھ تصاویر بنواتے ہوئے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ انتظامات عراق کے حوالے کر دیے جائیں اور وہ اپنے ملک کی ذمہ داریاں سنبھال لیں‘۔

صدر اوباما نے عراقی راہنماؤں سے بھی ملاقات کی ہے اور ان پر واضح کیا ہے کہ دو ہزار گیارہ تک عراق سے تمام امریکی فوج کا انخلا مکمل ہو جائے گا۔

صدر اوباما نے عراق کے پانچ گھنٹے کے دورے کے دوران عراق کے وزیراعظم نورالمالکی سے ملاقات کی جو صدر سے ملاقات کے لیے خصوصی طور پر کیمپ وکڑی پہنچے تھے۔

عراق کے وزیراعظم کے ترجمان نے کا کہنا تھا کہ صدر اوباما سے وزیراعظم کی ملاقات مثبت تھی اور اس میں صدر اوباما نے اپنے موقف کو دوہرایا کہ امریکی فوجیوں کا عراق سے انخلا اعلان کردہ منصوبے کے مطابق ہو گا۔

صدر اوباما نے عراق کے غیر اعلانیہ دورے سے پہلے کہا تھا کہ افغانستان میں حالات بہتر کرنے کے لیے امریکہ نے بہت زیادہ وقت لیا ہے لیکن اس دوران عراق میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی تھا۔