منتظر الزیدی کی سزا میں کمی

منتظر الزیدی نے پندرہ دسمبر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر بش کو جوتے مارنے کی کوشش کی تھی
،تصویر کا کیپشنمنتظر الزیدی نے پندرہ دسمبر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر بش کو جوتے مارنے کی کوشش کی تھی
وقت اشاعت

سابق امریکی صدر جارج بش کو جوتے مارنے کی کوشش کرنے والے عراقی صحافی منتظر الزیدی کی سزا میں کمی کر دی گئی ہے۔

منتظر الزیدی کو ایک غیر ملکی رہنما پر حملہ کرنے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو کہ اب ایک سال کر دی گئی ہے۔

ان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف لگائے گئے حملہ کرنے کے الزام کو بدل کر غیر ملکی رہنما کی بے عزتی کردیا جائے۔

ججز نے موقف کو قبول کرتے ہوئے ان پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت کو کم کرکے سزا میں کمی کر دی۔

ایک عدالتی اہلکار کا کہنا تھا کہ جج نے اس بات کو بھی مد نظر رکھا کہ جوتا پھینکنے والے صحافی نے اس سے قبل کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔

عراقی جوڈیشل کونسل کے ترجمان ستار البرقدار کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ آج ہی جاری کیا گیا ہے جس میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ منتظر الزیدی ایک نوجوان ہیں جو اس سے قبل کسی بھی الزام میں گرفتار نہیں ہوئے۔‘

واضح رہے کہ تیس سالہ عراقی صحافی منتظر الزیدی نے پندرہ دسمبر کو بغداد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سابق امریکی صدر جارج بش پر جوتا پھینکتے ہوئے کہا تھا ’یہ بیواؤں، یتیموں اور ان کی طرف سے ہے جو عراق میں ہلاک کر دیےگئے۔‘ منتظرالزیدی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اے کتّے تمہارے لیے یہ الوداعی بوسہ ہے‘۔

منتظر کے وکلاء کے مطابق ان کی یہ حرکت ایک ایسے ملک کے شہری کے جذبات کا اظہار تھی جہاں سنہ 2003 میں امریکی حملے کے بعد سے امریکہ کے خلاف اشتعال انگیز جذبات پائے جاتے ہیں۔ وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ منتظر اپنے کیے پر شرمندہ نہیں اور وہ سابق امریکی صدر سے معافی کے طلبگار نہیں ہیں۔