لشکرگاہ میں خودکش حملہ، پانچ ہلاک

افغان پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی افغانستان میں ہونے والے ایک حملے میں چار پولیس اہلکار اور ایک بچہ ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس خودکش حملے میں چار اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ خودکش حملہ صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں ہوا اور اس میں انسدادِ منشیات کے لیے کام کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آور پیدل تھا اور اس نے پولیس کے قافلے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
ہلمند کے نائب پولیس سربراہ کمال الدین نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ حملے سے پولیس کی دو گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔
افغانستان کے صوبہ ہلمند میں دنیا بھر کی افیم کا دو تہائی حصہ تیار کیا جاتا ہے جسے بعدازاں ہیروئن کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں حال ہی میں سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں سرکاری دفاتر کے احاطے پر ایک خودکش حملے میں پولیس کے پانچ افسران اور تین شہری ہلاک ہوئے تھے جبکہ مشرقی صوبے پکتیا میں بھی پولیس کو ایک خودکش حملہ آور نے نشانہ بنیا تھا جس سے تین اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔


















