پاکستان برطانیہ مخالف حملوں کا گھر: براؤن

برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ برطانوی سکیورٹی اداروں کو پتہ چلنے والے دہشت گردی کے دو تہائی منصوبوں کی جڑیں پاکستان میں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ ہدایات پاکستان میں موجود شدت پسندوں کی طرف سے بھیجی جاتی ہیں۔
گورڈن براؤن نے عربی ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ القاعدہ کا زیادہ تر ڈھانچہ پاکستان میں ہے اور دوسرا یہ کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے پاکستان میں موجود طالبان کا ہاتھ ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سر زمین پر دہشت گردی کے انتہائی بڑے خطرے سے نمٹنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔
دریں اثناء برطانیہ میں پولیس بدھ کے روز گرفتار ہونے والے گیارہ پاکستانیوں اور ایک برطانوی شہری کے بارے میں شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ انگلینڈ کے شمال مغرب میں دہشت گرد حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
سکیورٹی اداروں نے میریسائیڈ اور مانچسٹر میں دس گھروں کی تلاشی لی اور کہا جا رہا ہے کہ وہ حاصل ہونے والی خفیہ معلومات کی چھان بین کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔
امیگریشن کے وزیر فِل وولس نے حزب اختلاف کی جماعتوں حکومت کو اس مجوزہ منصوبے کی حمایت کرنے کے لیے کہا ہے جس کے تحت برطانیہ آنے اور جانے والے تمام افراد کے قوائف جمع کیے جائیں گے۔


















