برطانوی پولیس ثبوتوں کی تلاش میں

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق برطانوی پولیس کو بدھ کو کیے جانے والے انسدادِ دہشتگردی آپریشن میں گرفتار شدہ افراد کی رہائش گاہوں میں سے ایک سے کچھ تصاویر ملی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس کے تفتیشی ماہرین انگلینڈ کے شمال مغربی علاقوں میں واقع چودہ مکانات کی تلاشی لے رہے ہیں اور انہوں نے وہاں موجود گاڑیوں کو بھی جانچ کے لیے بھیجا ہے۔
اس آپریشن کے دوران دہشتگردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے بارہ افراد سے تفتیش بھی جاری ہے۔ ان بارہ میں سےگیارہ پاکستانی شہری ہیں جو ’سٹوڈنٹ ویزا‘ پر برطانیہ آئے تھے۔ ان افراد کو مانچسٹر، لیورپول اور لنکاشائر کاؤنٹی کے علاقے کلیتھ رو سے حراست میں لیا گیا ہے۔
سینیئر پولیس افسران کا کہنا ہے کہ یہ تاحال واضح نہیں کہ دہشتگردی کے اس مجوزہ منصوبے کا ہدف کیا تھا تاہم بی بی سی کے نک ریونز کرافٹ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس کو جن مقامات کی تصاویر ملی ہیں ان میں مانچسٹر کے ٹریفرڈ اور آرنڈیل شاپنگ سنٹرز، سینٹ اینز سکوائر اور برڈ کیچ نائٹ کلب شامل ہیں۔
بی بی سی کے نمائندے کے مطابق ممکن ہے کہ یہ کسی دہشتگرد حملے کے اہداف نہ ہوں لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بہت بڑا حملہ آنے والے چند دنوں یا ہفتوں میں ہونے والا تھا۔ بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق یہ آپریشن برطانیہ کی داخلی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کی تحقیقات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
ادھر برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ دہشتگرد عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو مزید کچھ کرنا ہوگا۔ گورڈن براؤن نے کہا کہ ’ہم دہشتگردوں کا تعلق بتدریج پاکستان اور برطانیہ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’انسدادِ دہشتگردی کے لیے ہم برطانیہ اور پاکستان کے درمیان انتہائی قریبی تعاون چاہتے ہیں‘ اور اس سلسلے میں وہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری سے بات کریں گے۔
خیال رہے کہ بدھ کو کیا جانے والا یہ آپریشن ایک خفیہ دستاویز کے سامنے آ جانے کے بعد مقررہ وقت سے قبل کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے کہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر باب کوئیک نے وزیراعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ آتے ہوئے خفیہ دستاویز نادانستہ طور پر فوٹوگرافروں کے سامنے ظاہر کر دی تھی۔ اس دستاویز پر واضح الفاظ میں ’سیکرٹ‘ لکھا ہوا تھا اور اس میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔اس غفلت پر باب کوئیک کو اپوزیشن کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور جمعرات کو انہوں نے اس غفلت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔


















