نظام عدل ریگولیشن: امریکی کی مایوسی

قاضی کورٹ
،تصویر کا کیپشنہمیں مایوسی ہوئی ہے: ترجمان وائٹ ہاؤس
وقت اشاعت

امریکہ نے صوبہ سرحد کے مالا کنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے باضابطہ نفاذ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی وائٹ ہاؤس یا ایوان صدر کے ترجمان کا کہنا تھا ’ہمیں مایوسی ہوئی ہے کہ (پاکستانی) پارلیمان نے جائز شہری اور انسانی حقوق پر توجہ نہیں دی‘۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری نے پیر کو قومی اسمبلی کی جانب سے شرعی قوانین کے حق میں قرارداد کی منظوری کے بعد اس ریگیولیشن پر دستخط کیے تھے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جمہوریت اور حقوقِ انسانی کے امریکی مقاصد کے خلاف ہے۔

بعض ناقدین پاکستان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ نہیں کرنا چاہتا۔

مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے سلسلے میں صوبہ سرحد کی حکومت اور کالعدم تنظیم نفاذِ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے مابین معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد ضلع سوات میں شدت پسندوں نے اپنی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

خود کو طالبان کہلانے والے سوات کے شدت پسندوں کا مطالبہ تھا کہ ان کے علاقے میں شریعت نافِذ کی جائی۔ دو ہزار سات کے اواخر میں فوج نے وہاں آپریشن شروع کر دیا تھا جس کے بعد شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرڈ گِبز کا کہنا ہے ’انتظامیہ کی سوچ یہ ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جمہوریت اور حقوقِ انسانی پر سمجھوتہ کرنا نہیں ہے‘۔

رابرٹ گِبس نے کہا ’سوات میں سخت اسلامی قوانین کے نفاذ کی منظوری ان دونوں اصولوں کے خلاف ہے‘۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی سنینٹر جان کیری نے، جو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، بھی کہا ہے کہ پاکستان کو ملک کے شمال مغرب میں شدت پسندی کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔

سینیٹر جان کیری امریکی سینیٹ کی تعلقات خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے درکار وسائل بروئے کار نہیں لائے گئے ہیں۔