جارج مچل مشرقِ وسطی کے دورے پر

امریکی صدربراک اوباما کےمشرق وسطٰی پرخصوصی ایلچی جارج مچل نئی اسرائیلی حکومت کےقیام کے بعداسرائیل اورمقبوضہ فلسطینی علاقوں کےپہلےدورے پرآئے ہیں۔
ان کی آمد سےٹھیک پہلے نئےاسرائیلی وزیرخارجہ ایوگدور لیبرمین نے کہا ہے کہ ایناپولس میں امن مذاکرات کاطریقۂ کاراب کارآمد نہیں رہا۔ لیکن ٹھیک اسی بیان کے وقت امریکی صدر اوبامانےاسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کےقیام کےاپنے ہدف کوایک بارپھر دہرایاہے۔
مقبوضہ بیت المقدس سےنامہ نگارٹم فرینکس کےمطابق جارج مچل ایک بالکل تبدیل شدہ سیاسی منظرنامےمیں اسرائیل پہنچے ہیں۔ نئی اسرائیلی حکومت ایک علیحدہ فلسطینی ریاست کی قائل نہیں ہے۔ سینئیراسرائیلی اورفلسطینی مذاکرات کار ایک مکمل امن سمجھوتے کے لیے ایک دوسرے کی صلاحیت یا خواہش پر شک رکھتے ہیں۔
مغربی سفارکاروں کو تشویش ہے کہ امن مذاکرات کے اس تعطل کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری بڑھتی رہے گی اور مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے میں مزید فلسطینی گھروں کا انہدام دونوں فریقوں کے تعلقات کو اور بھی بگاڑ دے گا۔ لیکن ساتھ ہی ان کو یہ بھی امید ہے کہ اسرائیل کی دائیں بازو کی نئی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایک سخت گیر نظریاتی سیاست دان کے بجائے ایک لچکدار عملیت پسند فرد ثابت ہوں۔ لیکن جارج مچل اور بقیہ اوباما انتظامیہ کےلیے یہ سوال بہرحال اہم رہےگا کہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام میں مدد دینے کا وعدہ تو اپنی جگہ لیکن اس کی عملی صورت کیا ہو۔


















