چین میں ترقی کی شرح میں کمی

چین کے قومی شماریات کے ادارے ’نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹک‘ کے مطابق ملک کی سالانہ مجموعی مقامی پیداوار سن دو ہزار نو کی پہلی سہ ماہی میں چھ اعشاریہ ایک فصید رہی ہے۔
انیس سو بانوے میں جب سے ملکی پیداوار کے اعداد و شمار کی سہ ماہی رپورٹ شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے گزشتہ سہ ماہی میں کل مقامی پیداوار سب سے کم سطح پر رہی۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی میں دوبارہ تیزی آنے کے واضح اشارے دکھائی دے رہے ہیں۔
گزشتہ سال، سن دو ہزار آٹھ کی آخری سہ ماہی میں مجموعی مقامی پیداوار چھ اعشاریہ آٹھ فیصدہ رہی تھی لیکن سن دو ہزار نو کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات میں سترہ فیصد کمی کے سبب مجموعی مقامی پیداوار مزید کم ہو کر چھ اعشاریہ ایک فیصد پر آ گئی۔
چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے قومی ترقی کی شرح کو آٹھ فیصد سالانہ پر بحال کرنے کا عزم کر رکھا ہے اور وہ ملک کے اندر کھپت کو بڑھنا چاہتے ہیں۔
شنگھائی میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس ہاگ کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت امریکہ اور یورپ میں چین کی مصنوعات کی طلب میں اضافہ کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔
چین کے حکام کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ معاشی ترقی کی شرح میں ایک سطح سے زیادہ کمی سے ملک میں بے روزگاری اور سماجی بے چینی بڑھنے کا خطرہ ہے۔
ادارہ شماریات نے سن دو ہزار نو کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کے اعدادو شمار کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بڑی وجہ برآمدات میں تشویشناک حد تک کمی ہے جس سے مختلف کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہوئی، حکومت کے محصولات گر گئے اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ادارہ شماریات کے بیان میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر اقتصادی بحران کی وجہ سے چین کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سن دو ہزار تین سے سن دو ہزار سات تک چین کی معاشی ترقی کی سالانہ شرح دس فیصد سے زیادہ رہی اور سن دو ہزار آٹھ میں یہ کم ہو کر نو فیصد سالانہ پر آ گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار نو کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح میں کمی توقعات کے برخلاف نہیں تھی۔
تاہم دیگر حکومتی اداروں کے اندازوں کے مطابق معاشی ترقی میں بحالی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
صنعتی پیداوار کی شرح گزشتہ چار مہینوں میں پانچ اعشاریہ ایک رہی۔
مستقل صنعتی اثاثوں مثلاً نئے کارخانوں یا ان کی آلات اور مشینوں میں سرمایہ کاری کی شرح مارچ میں اٹھائیس اعشاریہ چھ فصید رہی جو کہ فروری میں چھبیس اعشاریہ پانچ فیصد تھی۔
گزشتہ ماہ مارچ میں جائداد کی خرید و فروخت میں چار اعشاریہ ایک فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور روزمرہ کی اشیاء ضرورت میں ترقی کی شرح چودہ اعشاریہ سات فصید رہی۔
بیجنگ میں چین کے انٹرنیشنل کپیٹل کارپوریشن کے ایک ماہر ژنگ ژیانگ کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کے اعداو شمار گو اس سے پہلے کبھی اتنے کم سطح پر نہیں رہے لیکن یہ اندازوں سے کہیں بہتر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں برے دن گزر گئے ہیں اور اب اقتصادی ترقی کی شرح بحال ہو رہی ہے۔
چین نے اپنی معاشی ترقی کی رفتار کو بحال کرنے کے لیے پانچ سو پچاسی ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ہے تاکہ عالمی اقتصادی بحران کے اثر کو ذائل اور قرضوں کے اجراء کو یقینی بنایا جا سکے۔
شماریات کے قومی ادارے کے مطابق شہری علاقوں میں فی کس آمدنی گزشتہ سال سے بڑھ کر گیارہ اعشاریہ دو فیصد ہو گئی ہے اور دیہی علاقوں میں یہ بڑھ کر آٹھ اعشاریہ چھ فیصد ہو گئی ہے۔






















