لنکا:یو این کی اپیل مسترد

سری لنکا نے اقوامِ متحدہ کی اس تازہ اپیل کو مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ شمال مشرقی محفوظ علاقے سے شہریوں کو نکلنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔
حکومت کی جانب سے تامل باغیوں کے ساتھ دو دن کی یکطرفہ جنگ بندی کے دوران چند سو شہری ہی علاقہ چھوڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ملا تھیو کے ساحلی علاقے میں تقریباً پچاس ہزار سے ایک لاکھ شہری ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ باغیوں کو شکست دینے کے آخری مرحلے میں ہیں۔
سری لنکا کی حکومت نے اقوامِ متحدہ کی یہ اپیل اس ہفتے کولمبو میں سری لنکا اور اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے درمیان ملاقات کے بعد رد کی ہے۔
سری لنکا کے سیکریٹری دفاع گوٹابھیا راج پاکسے نے بی بی سی سے کہا کہ ’ہم نے اقوامِ متحدہ کے اہلکار مسٹر وجے نامبیار کو بتا دیا ہے کہ ہم جنگ بندی میں توسیع نہیں کر سکتے کیونکہ پہلے بھی لڑائی روک کر کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تامل باغیوں نے منگل کے روز ختم ہونے والی جنگ بندی کے دوران شہریوں کو رہا کرنے کے بین الااقوامی مطالبات پورے نہیں کیے تھے۔
سری لنکا کی فوج کا کہنا ہے کہ مہینوں کی شدید لڑائی کے بعد اب باغیوں کو نو فائر زون میں دھکیل کر اس علاقے کو تین طرف سے گھیرے میں لے لیا ہے۔جنگ کے انچارچ مسٹر راج پاکسے کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی فوج اس محفوظ علاقے میں کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گی کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں شہری موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اغوا شدہ شہریوں کو آزاد کرانے کا آپریشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم زمینی حقائق کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہے ہیں اور وقت آنے پر ہم اندر داخل ہوں گے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راج پاکسے کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اس کارروائی میں زیادہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اس سے باغیوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملےگا۔
مسٹر راج پاکسے کے اس بیان پر باغیوں کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔






















