دہشتگردی کا خاتمہ، کشمیر کا حل ضروری‘

جنرل پیٹریس ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دے رہے تھے۔
،تصویر کا کیپشنجنرل پیٹریس ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دے رہے تھے۔
وقت اشاعت

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے کہا ہے کہ مشرق وسطی کی طرز پر مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے اگر بین الاقوامی برادری کام کرے تو بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور پاکستان کی فوج زیادہ مؤثر انداز میں شدت پسندی سے نمٹنے پر توجہ دے سکتی ہے۔

جنرل ڈیویڈ پیٹریس نے یہ بات جمعہ کے روز ایوان نمائندگان کی بجٹ سے متعلق کمیٹی کے ارکان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اوپادھیہ کے مطابق اوباما انتظامیہ کو اندازہ ہے کہ پاکستان کی مشرقی سرحدوں سے فوج کو ہٹا کر مغربی سرحدوں پر لے جانا کتنا بڑا چیلنج ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں کامیابی حاصل کرنا اور پاکستان میں استحکام پیدا کرنا امریکہ کے لیے اتنا ضروری ہے کہ وہ اس کے لیے ہر ممکنہ راستہ آزمانے کو تیار ہے چاہے اس میں تنازعہ کشمیر کو حل کرانے کی ضرورت ہو یا بھارت اور پاکستان کے درمیان دیگر تنازعات حل کرنے کی بات ہو۔

بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جنرل پیٹریس نے کمیٹی کے سامنے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کی ذمہ داریوں میں پاکستان اور افغانستان کے علاوہ بھارت بھی شامل ہے۔

پی ٹی آئی نے جنرل پیرٹیس نے جو الفاظ استعمال کئے وہ اُسی طرح لکھتے ہوئے کہا کہ ’کچھ لوگوں نے درست طور پر یہ کہا تھا کہ ہالبروک کی ذمہ داریوں میں افغانستان اور پاکستان کے علاوہ بھارت کو بھی شامل ہونا چاہیے۔‘

’اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ان کی (ہالبروک) کی ذمہ داریوں میں بھارت پوری طرح شامل ہے اور در حقیقت وسطی ایشیائی ریاستیں اور دیگر ہمسائے۔‘

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے اطلاع دی ہے کہ جنرل پیٹریس نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کی امداد کی توثیق کر دے جو پاکستان کو قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے اپنی سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کے لیے درکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقاجات اب القاعدہ تنظیم کا گڑھ بن گئے ہیں۔

برجیش اوپادھیہ کی رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ پیٹریس نے لشکرِ طیبہ کا نام لے کر کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھانے کے لیے ممبئی حملوں کے بعد مزید پر تشدد کارروائیاں کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

جنرل پیٹریس نے کہا کہ لشکرِ طیبہ پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت کیونکہ وہ اور القاعدہ نہیں چاہتیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم ہو۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی سے لشکرِ طیبہ اور کئی دوسری شدت پسندوں کا اپنا وجود برقرار ہے اور اس کشیدگی کے ختم ہونے سے ان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔