میکسیکو فلو سے اب تک اکیاسی ہلاکتیں

میکسیکو فلو
،تصویر کا کیپشنمیکسیکو میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں
وقت اشاعت

میکسیکو کے حکام کا کہنا ہے کہ ’سوائن فلو‘ کی وباء سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اکیاسی تک پہنچ گئی ہے۔

میکسیکو کے شعبہ صحت کے سیکرٹری حوض کورڈووا کا کہنا ہے کہ ایسے ایک ہزار تین سو چوبیس افراد ہسپتالوں میں داخل ہیں جن میں’سوائن فلو‘ کی علامات پائے جانے کا شبہ ہے۔

یہ افراد تیرہ اپریل سے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ میکسیکو میں زیادہ تر مرنے والوں میں بچوں اور بوڑھوں کے برعکس جوان زیادہ شامل ہیں۔

ادھر امریکی ریاستوں نیویارک، ٹیکساس، کیلیفورنیا اور کنساس میں اب تک سوائن فلو سے متاثرہ گیارہ مریضوں کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ نیویارک میں ایک ہی سکول میں اس بیماری کے آٹھ مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں۔ تاہم امریکہ میں ابھی تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے

عالمی ادارہ صحت نے اس صورتحال کو ’لیول تھری‘ یا تیسرے درجے کا وبائی خطرہ قرار دیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ مارگیٹ چان نے خبردار کیا ہے کہ میکسیکو میں پھیلنے والا نیا فلو وائرس بین الاقوامی وباء کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیماری بین الاقوامی سطح کی ’ہیلتھ ایمرجنسی‘ ہے اور اس پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔

میکسیکو کے صدر نے وباء پھیلنے کے بعد ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔ عوامی استعمال کی عمارتیں بند کردی گئی ہیں، بڑی تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں اور لوگوں کو ہدایات کی گئی ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں تاکہ اس انفیکشن کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔میکسیکو میں دو فٹ بال میچ جن کے سارے ٹکٹ پہلے سے فروخت ہو چکے تھے تقریباً خالی سٹیڈیم میں کھیلے گئے۔

میکسیکو سٹی کے سکول چھ مئی تک کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔ عجائب گھروں اور لائبریریوں کو بھی بند کردیا گیا ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہاتھ ملانے سے گریز کریں اور کھانے کے لیے مشترکہ برتن استعمال نہ کریں۔

عالمی ادارۃ صحت کے سربراہ امریکہ کا دورہ مختصر کرکے جنیوا واپس پہنچ گئے ہیں جہاں عالمی ادارہ صحت کی ہنگامی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے۔ یہ کمیٹی بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کر سکتی ہے اور عالمی وبائی خطرے کی سطح کو بلند کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی کا یہ اقدام تجارتی پابندیوں، سرحدیں بند کرنے اور سفری ہدایات جاری کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

میکسیکو فلو
،تصویر کا کیپشنمیکسیکو میں بیشتر تفریحی مقامات خالی پرے ہیں

ماہرین صحت کا کہناہے کہ اب تک کے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بیماری کا تعلق میکسیکو میں سؤروں کے فلو وائرس سے ہے جو جنوبی امریکہ سے پھیلا ہے۔ یہ سوؤروں (اور چند پرندوں) کی سانس کی ایک بیماری ہے جو اب تک انسانوں میں عام نہیں تھی۔ اس کے پھیلنے کا ذریعہ عام نزلہ زکام کے پھیلنے کے ذریعے سے مشابہ ہے یعنی یہ کھانسی اور چھینکوں کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے۔

اب تک اس مرض کے خلاف کوئی موثر ویکسین نہیں بنائی جاسکی ہے تاہم مریضوں کو اینٹی وائرل دوائیاں دی جارہی ہیں۔ امریکی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فلو کی علامات اتنے زیادہ مقامات کے لوگوں میں پائی گئی ہیں کہ اس وائرس کو محدود رکھنا تقریباً ناممکن نظر آرہا ہے۔ بیماریوں کے کنٹرول کے ایک امریکی مرکز کے ٹام سکنر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ وبا کس تیزی سے پھیل رہی ہے اور مستقبل میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔