’تمل باغیوں کی یکطرفہ جنگ بندی ‘

امدادی کارکنوں کو جنگ زدہ علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی
،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں کو جنگ زدہ علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی
وقت اشاعت

تمل باغیوں نےسری لنکا فوج کے خلاف جنگ کی یکطرفہ طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تمل باغیوں نے کہا کہ یکطرفہ کا فیصلہ بدترین انسانی بحران کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

سری لنکاکی حکومت نے تمل باغیوں کی جنگ بندی کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اس مسترد کر دیا ہے۔ سری لنکا کے سیکرٹری دفاع نے تمل باغیوں سے کہا ہے کہ ہتھیار پھینک دیں۔

انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کے اعلٰی ترین افسر جان ہومز نے سری لنکن فوج اور تمل باغیوں سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ لڑائی سے متاثرہ علاقے میں پھنسے ہوئے شہریوں تک امدادی اداروں کو رسائی مل سکے اور ان کا انخلاء ممکن بنایا جا سکے۔

جان ہومز شہریوں کے محفوظ انخلاء کے معاملے پر بات چیت کے لیے سری لنکا پہنچے ہیں۔

سری لنکا آمد سے قبل تھائی لینڈ میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ جنگ سے متاثرہ علاقے میں نہ صرف شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں بلکہ انہیں نہ ہی کھانا اور پانی میسر ہے اور نہ ہی طبی سہولیات۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ زدہ علاقے میں’حالات نہایت خراب ہیں اور اسے لیے ہمیں کوئی ایسی راہ تلاش کرنا ہوگی جس سے جنگ رک جائے اور ان افراد کو باہر نکالا جا سکے اور ان کی مناسب دیکھ بھال ہو سکے‘۔

سری لنکن فوج کا کہنا ہے کہ اب تامل باغیوں کے خلاف جنگ میں کوئی وقفہ نہیں آئےگا۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اب تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد متاثرہ علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں تاہم اب بھی بارہ مربع کلومیٹر کے علاقے میں پچاس ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ سری لنکا کے شمال مشرقی علاقے کے ہسپتال اور حکومتی کیمپ جنگ زدہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد سے بھرے پڑے ہیں۔

گزشتہ برس تمل باغیوں کے خلاف کارروائی میں تیزی آنے کے بعد سے امدادی کارکنوں کو جنگ زدہ علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ تمل باغیوں کے مطابق حکومت دانستہ طور پر علاقے میں خوراک پہنچنے نہیں دے رہی ہے تاہم سری لنکن حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک دستاویز کے مطابق جنوری سے اب تک فوج اور تمل باغیوں کی لڑائی میں ساڑھے چھ ہزار شہری ہلاک اور چودہ ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر امریکہ نے بھی جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین کو چاہیے کہ وہ انسانیت کے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور فوری جنگ بندی کر کے شہریوں کو انخلاء کا محفوظ راستہ فراہم کریں۔