دبئی:مکانوں کی قیمتیں’اکتالیس فیصد کم‘

ایک جائزے کے مطابق سالِ رواں کے ابتدائی تین ماہ میں دبئی میں پراپرٹی کی قیمتوں میں اکتالیس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رئیل اسٹیٹ کی عالمی مشاورتی فرم کولیئرز انٹرنیشنل کے مطابق قیمتوں میں کمی کا رجحان سنہ 2008 کی آخری سہ ماہی سے شروع ہوا تھا اور ان تین ماہ میں پراپرٹی کی قیمتیں آٹھ فیصد گری تھیں۔
کولیئرز نے یہ رپورٹ ان علاقوں کے جائزے کے بعد مرتب کی ہے جہاں سنہ 2002 میں پراپرٹی مارکیٹ کے آغاز کے بعد سے غیر ملکیوں کو مکانات خریدنے کی اجازت تھی۔
قیمتوں میں اتنے بڑے پیمانے پر کمی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے حالیہ برسوں میں دبئی میں پراپرٹی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سلسلہ اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔کولیئرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کی اہم وجوہات میں عالمی طور پر قرضوں کی فراہمی میں کمی اور دبئی میں ملازمتوں کی عدم دستیابی بھی شامل ہیں۔
کولیئرز کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے سرمایہ کاری کے خیال سے دبئی میں پراپرٹی خریدی تھی مارکیٹ چھوڑ کر جا چکے ہیں اور اب دبئی میں پراپرٹی کی قیمتوں میں مزید کمی ہی آئے گی لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کب دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ سکتی ہے۔
فرم کے چیف ایگزیکٹو جان ڈیوس کا کہنا ہے کہ ’بازار سے خریداری کا جوش و جذبہ ختم ہوچکا ہے‘۔ خیال رہے کہ گزشتہ دس برس کے دوران دبئی میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے جس میں تعمیراتی شعبے کا بہت بڑا حصہ ہے۔


















