سوائن فلو: امریکہ میں پہلی ہلاکت

امریکہ میں تمام سکولوں میں اس وائرس کو روکنے کی کوشش کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں تمام سکولوں میں اس وائرس کو روکنے کی کوشش کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں
وقت اشاعت

میکسیکو سے پھیلنے والے سوائن فلو سے امریکہ میں ایک مریض ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ امریکہ میں اس وائرس کے کسی مریض کی پہلی ہلاکت ہے۔

ہلاک ہونے والا مریض تئیس ماہ کی عمر کا بچہ تھا اور یہ ہلاکت امریکی ریاست ٹیکساس میں ہوئی ہے۔

واشنگٹن میں حکام نے اس مریض کی اور کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے تاہم یہ امریکہ میں ان اکیانوے مریضوں میں سے ایک تھا جن میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ہلاک ہونے والا یہ دو سالہ لڑکا اپنے خاندان کے ساتھ میکسیکو سے امریکہ میں اپنے رشہداروں سے ملنے آیا ہوا تھا۔امریکی حکام نے بتایا ہے کہ وہ چار اپریل کو ٹیکساس پہنچا تھا اور چند ہی روز بعد وہ بیمار ہو گیا۔

امریکی صدر براک اوباما نے صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے ملک میں مقامی حکام سے کہا ہے کہ اس بارے میں وہ ہوشیار رہیں اور اگر وہ مناسب سمجھیں تو سکول بھی بند کر دیں۔

میکسیکو میں اب تک اس وائرس کے ایک سو انسٹھ مریض ہلاک ہوئے ہیں۔ یورپ میں بھی اس کے کئی اور مریضوں کا پتہ چلا ہے۔

عالمی ادارہ صحت یا ’ڈبل یو ایچ او‘ نے سوائن فلو کے پھیلاؤ کے بارے میں ایک اجلاس طلب کیا ہے۔ اس سے پہلے اس نے مختلف ممالک سے کہا تھا کہ وہ اس وائرس کے وباہ بن جانے کی صورت میں اپنی حکمت عملی تیار کر لیں۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں گھبراہٹ کی حالت میں غلط فیصلے نہیں کرنے چاہیں اور یہ کہ سفر پر پابندیاں لگانے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔

لیکن فرانس کی وزیر صحت نے کہا ہے کہ فرانس چاہتا ہے کہ یورپی یونین سوائن فلو کے پھیلاؤ کے پیش نظر میکسیکو جانے والی تمام پروازوں کو معطل کر دے۔ فرانس یہ معاملہ لکسمبرگ میں منعقد ستائیس ممالک کے وزرائے صحت کے اجلاس میں اٹھائے گا۔

جرمنی میں بھی سوائن فلو کے تین اور مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ ان میں ہیمبرگ میں ایک بائیس سالہ خاتون اور بویریا میں ایک ستآییس سالہ خاتوں اور ایک تیس سالہ مرد شامل ہیں۔ تینوں حال میں ہی میکسیکو سے واپس آئے تھے۔

برطانیہ میں اس فلو کے تین اور مریضوں کا پتہ چلا ہے جن سے اب برطانیہ میں ان مریضوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ پہلے دو کیس سکاٹ لینڈ میں ہوئے تھے لیکن ان نئے تین مریضوں کا تعلق پئنٹن، لندن اور برمنگھم سے ہے۔ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے پارلیمان کو بتایا کہ ان تینوں کا علاج جاری ہے اور حالت بہتر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یہ تینوں افراد میکسیکو سے واپس آئے ہیں

سپین میں بھی سوائن فلو کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کی تعداد اب دو سے دوگنی ہو کر چار ہو گئی ہے۔ یہ چاروں مریض میکسیکو سے سپین آئے تھے۔