نیپالی فوج کے سربراہ برطرف

نیپال میں حکومت نے سابق ماؤ باغیوں کو باقاعدہ طور پرفوج میں شامل کرنےکے معاملے پر فوج کے سربراہ کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
نیپال کے وزیر اطلاعات کے مطابق فوج کے سربراہ روک منگد کتوال کو کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران ان کے عہدے سے ہٹایا گیا۔
فوج کے سربراہ پر الزام تھا کہ وہ فوج میں نئی بھرتیاں بند کرنے اور آٹھ دوسرے جرنیلوں کو اپنے عہدوں سے ہٹانے کے احکامات کی تعمیل نہیں کر رہے تھے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان یہ تنازعہ امن معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو دو ہزار چھ میں خانہ جنگی کے ختم ہونے کا سبب بنا تھا۔
ماؤ باغی ہتھیار رکھنے سے پہلے ایک دہائی تک فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے رہے ہیں اور گزشتہ سال ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔
ماؤ نواز باغیوں کی اس مسلح جدوجہد میں تیرہ ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
اطلاعات کے وزیر کرشنہ بہادر مہارا نے بتایا کہ جنرل کتوال کو اس لیے ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا کیونکہ وہ حکومت کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کی کوئی اطمینان بخش وضاحت نہیں کر پائے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اطلاع دی ہے کہ جنرل کتوال نے واضح حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو ہزار آٹھ سو نئی بھرتیاں کئیں اور وزارتِ دفاع کی طرف سے برطرف کیئے گئے جرنیلوں کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوج کےسربراہ ان ماؤ باغیوں کو باقاعدہ طور پر فوج میں بھرتی کرنے کی بھی مخالفت کر رہے تھے جو کہ خانہ جنگی کے دوران فوج کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔






















