پرچندا ہیرو یا ولن؟

نیپال کے جنگلوں سے وزیر اعظم کے عہدے تک
،تصویر کا کیپشننیپال کے جنگلوں سے وزیر اعظم کے عہدے تک
وقت اشاعت

نیپال میں تقریباً ایک سال وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے پشپا کمال ڈھال کے سر پر چند سال پہلے تک انعام مقرر تھا اور وہ ایک خطرناک دہشت گرد کے طور پر جاننے جاتے تھے۔ ان کی تنظیم کمیونسٹ پارٹی آف نیپال ماؤسٹ کا نام امریکہ کی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل تھا۔

پشپا کمار ڈھال دس سال تک نیپال کے جنگلوں سے نیپالی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے رہے جس میں ایک انداز ے کے مطابق تیرہ ہزار افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھوں دھونا پڑے۔

مسلح جدوجہد میں شامل ہونے سے پہلے ایک مقامی سکول میں بچوں کو تعلیم دینے والے کا نام پشپا کمار تھا جس کا مطلب مقامی زبان میں کنول کا پھول ہے۔ دس برس تک جنگلوں سے مسلح جدوجہد کی قیادت کرنے پر انہیں پرچندا کا نام دیا گیا جس کا مطالب ہوتا ہے خونخوار۔

سن دو ہزار چھ میں انہوں نے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں سے ایک امن معاہدہ کیا جس سے دنیا کی واحد ہندو ریاست ختم ہوئی اور اقتدار میں ووٹوں کی طاقت سے پہنچنے کا راستہ کھلا۔

اگست دو ہزار آٹھ میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا جہاں پر ان کی تنظیم کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں ہنوز شامل تھا اور یہاں انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر جارج بش سے بھی ملنے کا موقع ملا۔

دو ہزار آٹھ میں پچندرا کی جماعت نے انتخابی کامیابی حاصل کی
،تصویر کا کیپشندو ہزار آٹھ میں پچندرا کی جماعت نے انتخابی کامیابی حاصل کی

چون سالہ پرچندا نے امریکہ کے دورے کے دوران کہا کہ معجزے ہوتے ہیں اور امریکہ کا دورہ ان کے لیے کسی خشگوار خواب سے کم نہیں ہے۔

پرچندا اعلی ذات ہندو برہمن گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن ان کا بچپن بکریاں اور بھینسیں چراتے ہوئے گزرا۔ ان کے دادا ایک خوشحال زمیندار تھے لیکن بعد میں ان کی زمینیں بٹ جانے سے ان کی مالی حالت کمزور ہو گئی۔

کم عمری میں معاشرے کی ناہمواریوں اور غربت کی سختیوں نے انہیں کمیونزم کی طرف مائل کر دیا اور وہ خود کہتے ہیں کہ لینن ان کے ’رول ماڈل‘ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی یہ سمجھ نہیں آیا کہ انہیں زندہ رہنے کے لیے اتنی سختیاں کیوں اٹھانا پڑتی ہیں جب کہ ان کے ہمسایوں کو زندگی کی تمام آسائشیں حاصل ہیں۔

پرچندا نےانیس سو اسی میں باضابط پر کمیونسٹوں میں شامل ہوئے جب ان کی عمر صرف پچیس برس تھی اور امریکی امداد سے چلنے والے ایک سکول میں استاد کی نوکری کر رہے تھے۔

چین کے کلچرل انقلاب اور پیرو میں چلنے والی تحریک سے متاثر پرچندا کو یقین تھا کہ دنیا کے ایک غریب ترین ملک میں انقلاب لانا مسلح جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔

ماؤ باغیوں کی انیس سو چھیاسی میں قیادت سنبھالنے کے بعد انہوں نے ملک کے مغربی حصے میں پولیس چوکیوں اور تھانوں پر حملوں سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔

اس جدوجہد میں دس سال میں اتنی شدت آئی کے ماؤ نواز باغیوں نے ملک کی سکیورٹی فورسز کو چند علاقوں تک محدود کر دیا اور ملک کا بڑا حصہ ان کے قبضے میں چلا گیا۔

پرچندا اب تین بچوں کے باپ ہیں اور عوام میں ایک خوشگوار اور دلپسند شخصیت کے مالک ہیں۔

ان کی زندگی کا پرتشدد دورہ تو ختم ہو گیا لیکن وزیر اعظم کے عہدے سے ان کے استعفی نے نیپال کو ایک غیریقینی صورتحال میں دھکیل دیاہے۔

معاملہ ان کے ساتھ مسلح جدوجہد کرنے والے ان تیس ہزار جانثاروں کا ہے۔ وہ انہیں فوج میں باقاعدہ شامل کرنے پر زور دے رہے ہیں جب کہ فوج کے سربراہ کا خیال ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کیمونسٹ نظریات کے حامل لوگوں کو فوج میں شامل کرنے سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔