ترکی: باراتیوں پر حملہ، 45 ہلاک

ترکی میں حکام نے بتایا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک بارات پر نا معلوم افراد کے حملے میں کم از کم پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ماردین کے صوبے میں پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے اور انہوں نے باراتیوں پر خود کار رائفلوں اور بموں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اس کی سرحدیں شام سے ملتی ہیں اور یہاں گزشتہ پچیس برس سے سرکاری فوج اور علیحدگی پسند کردوں کے درمیان نزع جاری ہے۔
تاہم ترکی کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بظاہر دہشتگردی کا کارروئی معلوم نہیں ہوتا۔
مقامی میڈیا کے مطابق ممکن ہے کہ یہ ہلاکتیں مہمانوں کے درمیان تکرار کے نتیجے میں ہوئی ہوں۔
دیگر غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق باراتیوں میں اس ملیشیا کے افراد بھی شامل تھے جو کردوں کے خلاف سرکاری فوج کی مدد کرتی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگارکا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔ ایک شخص نے جو اپنے بھتیجے کی لاش ہسپتال لایا تھا، بتایا کہ موقعِ واردات پر انتہائی دردناک مناظر تھے۔
قاتلوں کی گرفتاری کے لیے گاؤں میں نیم فوجی دستے روانہ کیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے میں پینتالیس افراد ہیں جبکہ چھ افراد زخمی ہیں۔ان کے مطابق اب تک کی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ دہشتگردی کا نتیجہ نہیں لیکن ابھی تفتیش جاری ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ وزیرِ داخلہ کرد شدت پسندوں کی جانب سے اس حملے کے امکان کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔
ترکی کے جنوب میں سنہ انیس سو چوراسی سے بغاوت جاری ہے جس میں باغی مزید خودمختاری کے لیے لڑ رہے ہیں۔ پچیس برس سے جاری اس لڑائی میں چالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔






















