پاکستان دہشت گردوں سے نمٹے: ہالبروک

رچرڈ ہالبروک
،تصویر کا کیپشنامریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا ہے کہ وہ جوہری اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی پاکستان کی صلاحیت سے مطمئن ہیں۔
وقت اشاعت

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے کانگریس کو پاکستان میں القاعدہ اور طالبان عناصر سے درپیش خطرات سے آگاہ کیا ہے۔

منگل کو پاکستان اور امریکہ کے مستقبل میں تعلقات کے بارے میں کانگریس کی سماعت کو رچرڈ ہالبروک نے بتایا کہ القاعدہ اور طالبان امریکہ کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور یہ اہم ہے کہ پاکستان ان کو اب شکست دے۔ مسٹر ہالبروک کا کانگریس میں یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب طالبان اور سکیورٹی فورسز میں ہونے والی لڑائی نے سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں سے ہزاروں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان علاقوں سے لگ بھگ پانچ لاکھ لوگوں کا انخلا متوقع ہے جن کی دیکھ بھال کے لیے چھ نئے مہاجر کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں۔

کانگریس کی یہ سماعت ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب امریکہ نہ صرف پاکستان کے لیے نئی پالسی وضع کر رہا ہے بلکہ پاکستان پر طالبان سے نمٹنے کے لیے دباؤ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

مولن کے تحفظات:

اس سے پہلے امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا تھا کہ وہ جوہری اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی پاکستان کی صلاحیت سے مطمئن ہیں۔

پینٹاگن میں ایک بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برس میں جوہری اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ نے پاکستان کو کافی رقم فراہم کی ہے جس سے ان اثاثوں کے حفاظتی نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔

تاہم ایڈمرل مولن نے کہا کہ وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کو لاحق خطرات سے سے وہ آگاہ رہیں۔

نیویارک ٹائمز نے گزشتہ روز اپنی ایک خبر میں سرکاری ذرائع کا حوالے دیتے ہوئے لکھا تھا کہ گزشتہ تین برس میں امریکہ نے پاکستان کو جوہری اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے دس کروڑ ڈالر سے زیادہ کی مالی امداد فراہم کی ہے۔

پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے بارے میں امریکہ کے سرکاری حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یہ معاملے امریکی حکام سے مذاکرات کے دوران سر فہرست رہنے کا امکان ہے۔

قبل ازیں امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل جیمز جونز نے کہا تھا کہ واشنگٹن کو اسلام آباد سے اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار شدت پسندوں سے محفوظ ہیں۔

جنرل جیمز جونز نے یہ بات شمالی امریکہ کے لیے بی بی سی کے ایڈیٹر جسٹن ویب کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے انہیں بار بار یہ بتایا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اس کے ’کنٹرول‘ میں ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ کافی نہیں ہے اور وہ اس سلسلے میں ٹھوس ضمانت چاہتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ ان ہتھیاروں کا طالبان کے ہاتھ لگ جانا ایک انتہائی خطرناک صورت حال ہو گی اور ان کے خیال میں اس طرح کی صورت حال پیدا نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس طرح کی صورت حال کے پیدا ہونے کا کوئی امکان ہے لیکن یہ ایک ’سٹرٹیجک کنسرن‘ یا دفاعی نوعیت کا خدشہ ضرور ہے۔

ایڈمرل مولن نے افغانستان کے بارے میں کہا کہ فوج تعینات کرنے اور جنگی سازوسامان فراہم کرنے کے سلسلے میں افغانستان امریکہ کی ترجیحات میں اول نمبر پر ہے۔

ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ امریکی فوجی ترجیحات میں اب افغانستان عراق سے اوپر آ گیا ہے۔

انہوں نے افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرونفوز پر شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے امریکہ کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ’طالبان القاعدہ اور دوسرے شدت پسندو گروہوں کی مدد اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے زور اور جبر سے بھرتیاں کر رہے ہیں اور اپنے نظریات کا پرچار کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے جنوب میں اور پاکستان کے اندر طالبان کی پیش قدمی سے وہ شدید تشویش کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش قدمی سے خطےمیں امریکہ کے مفادات اور امریکہ کے اندر سکیورٹی کو براہ راست خطرات لاحق ہوتے ہیں۔