اوباما کا مسلمانوں سے خطاب

براک اوباما
،تصویر کا کیپشنمسلمانوں سے خطاب صدر اوباما کا دیرینہ وعدہ تھا
وقت اشاعت

امریکی ایوانِ صدر نے کہا ہے کہ صدر براک اوبامہ امریکہ اور عالم اسلام کے تعلقات کے بارے میں اپنے دورۂ مصر کے دوران مسلمانوں سے خطاب کریں گے۔

وہ چار جون کو قاہرہ جائیں گے۔

صدر اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی صدارت کے ابتدائی دنوں ہی میں مسلمانوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تقریر کریں گے۔

ایوانِ صدر کے ایک ترجمان نے اس مقصد کے لیے مصر کے انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر عرب دنیا کے دل کی حیثیت رکھتا ہے۔

گزشتہ ماہ ترکی کے دورے پر براک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی جنگ مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ عالم اسلام کے ساتھ شراکت باہمی کی بنیاد پر رہنا چاہتا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کے مطابق صدر اوباما نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ وہ مسلم اور عرب دنیا سے رابطے استوار کرنا چاہتے ہیں۔

جب صحافیوں نے ایوان صدر کے ترجمان رابرٹ گِبس کی توجہ مصر میں حقوق انسانی کی پامالی کی جانب مبذول کروائی تو انہوں نے کہا ’صدر کے خطاب کی اہمیت اور ان کی خواہش اس بات سے زیادہ بڑی ہے کہ وہ کہاں خطاب کرتے ہیں اور اُس ملک کی قیادت کس کے پاس ہے۔‘ ان کے بقول یہ صدر کی جانب سے مسلمانوں سے مکالمے کی متواتر کوششوں کا حصہ ہے۔

صدر اوباما دورۂ مصر کے اگلے روز جرمنی جائیں گے۔