مشرقِ وسطی:شاہ عبداللہ کا انتباہ

شاہ عبداللہ
،تصویر کا کیپشنتمام نظریں واشنگٹن کی جانب ہیں: شاہ عبداللہ
وقت اشاعت

شاہ عبداللہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطی میں امن معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اگلے بارہ سے اٹھارہ مہینوں میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو جائےگا۔

برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ امریکہ مشرقِ وسطی میں قیامِ امن کے اہم منصوبے کو حتمی شکل دے رہا ہے جس کی تیاری میں وہ امریکہ کی مدد کر رہے ہیں۔

شاہ عبداللہ نے بتایا کہ اس منصوبے میں شام اور لبنان کے ساتھ اسرائیل کے تنازعے کو حل کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

اپنے انٹرویو میں شاہ عبداللہ نے کہا کہ ’تمام نظریں واشنگٹن کی جانب ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ اگر اب ہمیں واضح پیغام اور ہدایتیں نہیں ملیں تو سب کو یہی محسوس ہوگا کہ یہ ایک اور امریکی حکومت ہے جو ہمیں مایوس کرے گی اور دنیائے عرب میں صدر اوباما کی جو ’اچھی ساکھ‘ بنی ہے وہ راتوں رات ختم ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اگر امن کے عمل میں کوئی تاخیر ہوئی تو مسلمانوں اور اسرائیلیوں میں ایک اور لڑائی شروع ہو جائے گی۔

شاہ عبداللہ نے کہا کہ ’اب ہم مذاکرات کی میز پر صرف فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی بات نہیں کر رہے بلکہ اسرائیل کے ساتھ شام اور لبنان کے مذاکرات کی بات بھی کر رہے ہیں۔

شاہ عبداللہ کا یہ تبصرہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطی پر بحث سے پہلے سامنے آئے ہیں۔

نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سےبی بی سی کی نامہ نگار لارا ٹریوالین کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ وزراء خارجہ کے درمیان پیر کو ہونے والے اس اجلاس میں مشرقِ وسطی میں قیامِ امن کے عمل کے لیے کونسل کی حمایت کو اجاگر کریں گے۔

ٹائمز کے مطابق اس منصوبے میں اسرائیل کو ہر عرب ملک میں ویزا کی پیشکش، اسرائیل کی قومی ائیرلائن کو عرب علاقوں سے گزرنے کی اجازت کی پیشکش اور آگے چل کر او آئی سی کے تمام رکن ملکوں کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات شامل ہو سکتی ہے۔

اس کے جواب میں اسرائیل کو اپنی بستیوں کو تعمیر کو روکنا ہوگا اور ان علاقوں کو خالی کرنا ہوگا جن پر اس نے 1967 میں قبضہ کیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اگلے ہفتے وہائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے ہیں اس کے علاوہ فلسطینی اور مصری رہنماوں کو ایک علیحدہ ملاقات کے لیے واشنگٹن مدعو کیا گیا ہے۔

جون کے اوائل میں صدر اوباما کو مسلم دنیا کے ساتھ امریکی تعلقات پر ایک اہم تقریر کرنی ہے۔