آن سان سو چی جیل منتقل

آن سان سو چی کو فوجی حکام نے برسوں سے گھر میں نظر بند کیا ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنآن سان سو چی کو فوجی حکام نے برسوں سے گھر میں نظر بند کیا ہوا ہے
وقت اشاعت

برما کی جمہوریت حامی رہنما آن سان سو چی کی پارٹی نے بتایا ہے کہ فوجی حکام نے انہیں جیل منتقل کر دیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ مقمدہ پچھلے ہفتے ایک امریکی شہری کے ان کے پاس بن بلائے آنے کے سلسلے میں ہے۔ جان ییٹاؤ نامی اس امریکی شہری کو پچھلے ہفتے آن سان سوچی کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ شخص تیرتے ہوئے ان کے گھر کے پاس جھیل کو پار کر کے وہاں پہنچا تھا۔ تریسٹھ سالہ آن سان سو چی کا پچھلے دو دہائیوں میں بیشتر وقت گھر میں نظر بندی میں گزرا ہے۔

سو چی کو انیس سو نوے کے انتخابات میں ان کی پارٹی کی جیت کے بعد حراست میں رکھا گیا تھا۔ فوجی حکام نے ان کو اقتدار سنبطالنے سے روک دیا تھا۔

سوچی کی پارٹی نیشنل ’لیگ فار ڈیموکرسی‘ (این ایل ڈی) کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ان کو اور ان کی دو ملازماوں کو حکام ان کے رہائش گاہ سے رینگون کے قریب واقع انسئن جیل منتقل کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ سو چی کے خلاف حکام کیا الزامات لگائیں گے۔

برما کے حکام نے سو چی کی منتقلی یا ان کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

آن سان سو چی کی نظر بندی میں حکام نے پچھلے سال توسعی کر دی تھی حالانکہ ان کی حراست کی مدت قانونی حد سے بڑھ چکی تھی۔ ان کی رہائی اس ماہ کے آخر میں عمل میں آنی تھی۔