’بدسلوکی کی تصاویر کی اشاعت روکیں گے‘

امریکی صدر براک اوباما نے عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کے قید خانوں میں بدسلوکی کی تصاویر کی اشاعت روکنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
صدر اوباما کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر اشتعال انگیز ہو سکتی ہیں اور ان کی اشاعت سے اگر امریکہ محالف جذبات میں اضافہ ہوا تو یہ بیرون ملک تعینات امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔
سنہ دو ہزار پانچ میں لی گئیں ان چالیس کے قریب تصاویر میں عراق اور افغانستان میں قیدیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کی بدسلوکی اور تشدد کے مناظر ہیں۔
عدالتی حکم کے تحت یہ تصاویر اٹھائیس مئی کو ریلیز کی جانی تھیں۔ یہ عدالتی فیصلہ انسانی حقوق کی تنظیم امریکن سِول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) کی عدالتی درخواست کے بعد کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے اُس وقت کہا تھا کہ وہ اس فیصلے کی مخالفت نہیں کرے گا تاہم اب صدر اوباما کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ اے سی ایل یو نے صدر کے فیصلے پر حیرانی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان تصاویر کی اشاعت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
صدر اوباما نے کہا کہ یہ کوئی سنسنی خیز تصاویر نہیں ہیں اور فوج قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے ہر کیس کو نمٹا چکی ہے اور اس بارے میں اقدامات لیے جا چکے ہیں۔
امریکی وزارت دفاع یعنی پینٹاگون کے مطابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور فوج کے مرکزی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریئس سمیت کئی اعلی فوجی افسروں نے صدر اوباما کو ان تصاویر کی اشاعت روکنے کا مشورہ دیا تھا۔


















