سری لنکن صدر نے ’فتح‘ کا اعلان کردیا

سری لنکا کے صدر نے تامل باغیوں کے خلاف 26 سالہ طویل خونی جنگ کے بعد اپنی فتح کا اعلان کردیا ہے۔
اردن کے دورے کے دوران مہندا راجاپاکسے نے کہا کہ اب وہ واپس اپنے ملک جائیں گے تو وہ ایک ایسی جگہ ہوگی جو باغیوں کی ’پرتشدد کارروائیوں‘ سے پاک ہوگی۔
لڑائی کے آخر میں بچنے والے باغیوں کے انجام کے بارے میں صدر نے کوئی بیان نہیں دیا۔ ان باغیوں اور ان کے رہنماؤں کو فوج نے ملک کے شمال مشرق میں ساحل سمندر کے آخری حصے میں ایک چھوٹے علاقے تک محدود کردیا تھا۔
خیال ہے کہ اس حتمی لڑائی کے دوران کئی شہری بھی علاقے میں پھنسے ہوئے تھے۔ بریگیڈیئر ادایا نانایاکارا کا کہنا تھا کہ دیگر علاقوں کی نسبت بندرگاہ کے علاقے میں لڑائی کی شدت کم رہی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ بہتر گھنٹوں میں کم از کم پچیس ہزار افراد جنگ کے علاقوں کو چھوڑ کر آئے ہیں۔ تاہم ابھی بھی جس علاقے کو فوج نے گھیرہ ہوا ہے وہاں عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد بتائی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی خبریں ہیں کہ تامل باغیوں نے اس جگہ مرتے دم تک لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ اور مغربی حکومتوں نے سری لنکا سے کہا ہے کہ وہ تامل ٹائیگروں پر عسکری فتح حاصل کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرے۔
کہا جاتا ہے کہ تاملوں کی سرزمین پر لڑائی کے 26 سال کےدوران 70000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیویلینڈ کا کہنا ہے کہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ تامل باغی اب فوج کے خلاف خودکش حملوں کا استعمال کرسکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوج کے مطابق جمعہ کو جنگ زدہ علاقے سے 10000 شہری نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے تاہم بی بی سے کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب بھی جنگ کی زد میں آئے ہوئے علاقوں میں پھنسے ہزاروں شہریوں کے تحفظ کے بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
علاقے میں ’تیزی سے بگڑتے انسانی بحران‘ پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ فوج شہری علاقوں پر شیلنگ نہ کرے اور باغی بھی ہتھیار ڈال دیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران جنگ زدہ علاقوں سے نکلنے والے تقریباً دو لاکھ افراد حکومت کے قائم کردہ کیمپوں میں مقیم ہیں۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لڑائی والے علاقوں سے نکلنے والے خاندانوں میں خوراک کی کمی کا شکار بچے اپنے خاندانوں سے علیحدہ ہوتے جارہے ہیں۔






















