چار اہم تمل ٹائیگر رہنما ہلاک

سری لنکن فوج
،تصویر کا کیپشنسری لنکن فوج تمل علاقوں میں اپنے قبضے کی تصاویر جاری کرتی رہتی ہے
وقت اشاعت

تمل ٹائیگرز کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود سری لنکا کے شمالی علاقوں میں جنگ جاری ہے اور بین الاقوامی برادری کی تشویش ان علاقوں میں پھنسے ہوئے عام شہریوں کے متعلق بڑھ رہی ہے۔

سری لنکا کی حکومت نے کہا ہے کہ اس کی فوج اب لڑائی کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ لڑائی میں چار اہم تمل ٹائیگر رہنما مارے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل تمل ٹائیگرز نے اپنی ویب سائٹ پر چھبیس سال کی گوریلا جنگ کے بعد ' بندوقوں کو خاموش‘ کرنے یعنی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

باغی تنظیم لبریشن آف تمل ٹائیگرز اِیلم یا ایل ٹی ٹی ای کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بندوق رکھی تو جا رہی ہے، مگر ہتھیار نہیں ڈالے جارہے۔ ناروے کے ایک وزیر، ایرک سولئیم جو اس سے پہلے تمل باغیوں اور سری لنکا کی حکومت کے درمیان مصالحت کے لیے کوشاں رہے، ان کا کہنا ہے کہ تمل باغیوں نے انہیں بتایا ہے کہ وہ بین الاقوامی نمائندگان کے سامنے غیر مسلح ہونے کو تیار ہیں۔ لیکن سری لنکا کے وزیر دفاع گوتا بھایا راج پکش کا کہنا ہے باغی اب ایک بہت ہی چھوٹے سے علاقے میں گھر چکے ہیں اور فوج آج دن بھر میں اس علاقے کو بھی صاف کرلے گی۔ ہتھیار ڈالنے والے تمل جنگجوؤں کے بارے میں سری لنکا کے وزیر دفاع گوتا بھایا راج پکش نہ کہا کہ ’جو بھی ہتھیار رکھ رہا ہے، ہم اس کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔ اب تک قریباً پانچ ہزار افراد نے ہتھیار ہمارے حوالے کیے ہیں اور ان میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ایسے لوگ ہیں جو بطور سخت گیر عناصر شناخت ہوئے ہیں ہم نے انہیں حراست میں لے لیا ہے، لیکن ان کے خلاف بھی معمول کی تفتیش اور قانونی کارروائی ہوگی۔‘

راجا پکسے
،تصویر کا کیپشنسری لنکا کے صدر راجا پکسے نے فوجی فتح کا اعلان کیا ہے

تمل باغی تنظیم کے قائد ویلو پلائی پرابھاکرن کے بارے کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ مگر چہ مگوئیاں ہورہی ہیں کہ وہ بھی لڑائی میں مارے گئے۔ لیکن ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔تاہم فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسے پرابھاکرن کے بیٹے چارلس اینتھونی کی لاش ملی ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ یورپی یونین کے وزراء سوموار کو عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کے متعلق آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کریں۔

یورپی اتحاد کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج پیر کو ہورہا ہے۔ توقع ہے کہ یورپی اتحاد کے وزرائے خارجہ اس مسلح تنازعے کے دوران دونوں جانب سے شہریوں کی ہلاکت، اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ دیگر مبینہ خلاف ورزیوں کی بھی بین الاقوامی طور پر چھان بین کا مطالبہ کریں گے۔ یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ یورپی اتحاد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے فوری اتحاد کا مطالبہ کرے۔

دونوں فریق ایک دوسرے پر عام شہریوں پر حملے کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

سری لنکا کی فوج کا کہنا ہے کہ تمل ٹائیگرز ایک 1.5 مربع کلومیٹر کے جنگل میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں فوج نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔

سری لنکن فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے فرار ہونے کی کوشش کرنے والےستر تمل باغیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔تاہم فوج کے ترجمان نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں تمل ٹائیگرز کے لیڈر ولوپلائے پربھارکن کی ہلاکت یا گرفتاری کے بارے ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا ہے۔۔

سری لنکا کے صدر راجاپاکسے نے تمل باغیوں کے خلاف 26 سالہ طویل خونی جنگ کے بعد اپنی فتح کا اعلان کردیا ہے۔

سری لنکا کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے چھبیس سال سے جاری تمل علیحدگی کی تحریک کو کچل دیا ہے اور تمل باغیوں کا کنٹرول ملک کے شمال مشرق میں ساحل سمندر کے آخری حصے میں صرف چند کلومیٹروں تک محدود ہو گیا ہے۔

سری لنکا کی فوج کے ترجمان برگیڈیر اودیا نانایاکار نے کہا ہے کہ ستر تمل باغیوں کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ چھ کشتیوں میں بیٹھ کر میدان جنگ سے فرار ہونے کوشش کر رہے تھے۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ مرنے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے لیکن تمل لیڈر پربھارکن ہلاک ہونے والوں میں شامل نہیں ہیں۔

چند روز پہلے سری لنکا کی فوج نے تمل باغیوں کے قبضے سے ایک آبدوز نما کار، سمندر کے اندر ایک سرنگ اور ایک جہاز کے پرزوں پر قبضہ کیا تھا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تمل لیڈر کے میدان جنگ سے فرار ہونے کے لیے حاصل کی گئیں تھیں۔