آن سان سو چی سماعت:سفارتکاروں پر پابندی

آن سان سو چی
،تصویر کا کیپشنآن سان سوچی پرایک امریکی شہری کو اپنےگھر میں رکھنے پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے
وقت اشاعت

برما کے حکام نے جمعرات کے روز اپوزیشن رہنما آن سان سوچی کے مقدمے کی سماعت میں بین الاقوامی مبصرین کو بیٹھنے سے روک دیا ہے۔گزشتہ روز غیر ملکی سفارت کاروں کو سماعت میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

بدھ کے روز حکام نے تنقید کے بعد غیر ملکی سفارتکاروں اور صحافیوں کو سماعت میں بیٹھنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن جمعرات کے روز برما کے حکام کے مطابق سفارتکاروں کو سماعت میں بیٹھنے کی اجازت صرف ایک روز کے لیے تھی۔

جمہوریت پسند برما کی رہنما آن سان سوچی پر الزام ہے کہ انہوں نے نظر بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی جب ایک امریکی شہری ان کےگھر کے سامنے واقع جھیل تیر کر پار کرنے کے بعد ان کے گھر پہنچ گئے تھے۔

تریسٹھ سالہ برما کی رہنما آن سان سوچی کو گزشتہ انیس برسوں میں سے تیرہ سال بغیر کسی الزام کے نظر بند رکھا گیا ہے۔

ان کی موجودہ نظر بندی مئی کی ستائیس تاریخ تک ہے لیکن مبصرین کے نزدیک آن سان سوچی کے خلاف موجودہ کیس انہیں آئندہ سال ہونے والے انتخابات تک نظر بند رکھنے کا ایک بہانہ ہے۔

بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران غیر ملکی سفارت کار اور دس کے قریب صحافیوں کو سماعت میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن ایک برمی افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ یہ اجازت نامہ صرف ایک روز کے لیے تھا۔

آن سان سوچی کے وکیل کا کہنا ہے کہ سوچی نے نظر بندی کی کسی شرط کی خلاف ورزی نہیں کی اور امریکی شہری کو اپنے گھر مدعو نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوچی نے اس شخص کو رات وہاں ٹھہرنے کی اجازت اس لیے دی تھی کیونکہ اس نے کہا تھا کہ وہ بہت تھک چکا ہے۔