گورکھا فوجیوں کی جیت

برطانوی وزیرِداخلہ جیکی سمتھ نے کہا ہے کہ 1997 سے پہلے ریٹائر ہونے والے ایسے تمام گورکھا فوجیوں کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت دی جائےگی جن کی ملازمت کم از کم چار سال ہوگی۔
جیکی سمتھ نے ممبرانِ پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ اپنے ملک کی جانب سے ان تمام لوگوں کا خیر مقدم کرنے پر فخر محسوس کر رہی ہیں جنہوں نے گورکھا بریگیڈ میں اپنی خدمات انجام دیں۔
اداکارہ جوانہ لیوملی اورگورکھا حقوق کے دیگر حامیوں نے اس مقصد کے لیے زبردست مہم چلائی تھی تقریباً 36 ہزار گورکھا جو 1997 میں بریگیڈ کو چھوڑ کر چلے گئے تھے انہیں برطانوی رہائش دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
اداکارہ لیوملی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے برطانوی وزیرِاعظم گورڈن براؤن کو’بہادر انسان‘ قرار دیا۔
گورکھا بریگیڈ میں نیپال کے فوجی ہیں اور یہ رجمنٹ گزشتہ ایک سو پچاس برس میں برطانوی فوج کا اہم ترین حصہ رہی ہے۔
نئے فیصلے کے تحت گورکھا فوجیوں کو ان کے شریکِ حیات اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو برطانیہ میں رہائش کی اجازت ہوگی۔
جیکی سمتھ کا کہنا تھا کہ اگلے دو سال میں برطانیہ میں رہائش کے لیے دس سے پندرہ ہزار گورکھا درخواستیں متوقع ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت تقریباً چودہ سو گورکھا درخواستیں زیرِ غور ہیں جن پر اس پالیسی کے تحت گیارہ جون سے پہلے فیصلہ کر دیا جائے گا۔
ایسے تمام گورکھا فوجی جو سنہ انیس سو ستانوے سے قبل برطانوی فوج سے ریٹائر ہوئے ہیں انہیں برطانوی شہریت کا حق حاصل ہے کیونکہ اس وقت ہانگ کانگ سے گورکھا فوج کا اڈہ برطانیہ کو منتقل کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زبردست جنگجو ہونے کی شہرت کے حامل گورکھا فوجی جنگ عظیم اول اور دوم، جنگ فاکلینڈ اور اب حال ہی میں افغانستان میں برطانوی فوج کی طرف سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔






















